|

وقتِ اشاعت :   November 12 – 2021

کراچی: بلوچستان یونیورسٹی اور مختلف علاقوں سے بلوچ طالب علموں کی سیکورٹی فورسز کی جانب سے جبری طور پر گرفتاری کے بعد لاپتہ کرنے کے نئے سلسلے اور جبری گمشدگیوں میں تیزی لانے کے خلاف وائس فار بلوچ مِسنگ پرسن کی جانب سے بارہ نومبر بروز جمعہ شام چار بجے کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔

بلوچستان میں بلوچ طلبا کی جبری گمشدگیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے جہاں طلباء سیکورٹی کیمروں کی موجودگی اور سیکورٹی فورسز کی موجودگی میں طلباء لاپتہ ہورہے ہیں جبکہ یہ سلسلہ نوشکی تربت حب اور کراچی تک بڑھا دیا گیا ہے، اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے پہلے سے لاپتہ افراد کی بازیابی کی یقین دہانی کے باوجود انکی بازیابی اپنی جگہ اب یونیورسٹیوں سے بھی طلبا کو لاپتہ کیا جارہے ہے وائس فار بلوچ مِسنگ پرسن نے اپنے بیان میں انسانی حقوق کی تنظیموں وکلا برادری سیاسی جماعتوں سول سوسائٹی کے ممبران سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی بنیادی خلاف ورزیوں کے خلاف انکی جدوجہد میں انکا ساتھ دیں۔