|

وقتِ اشاعت :   November 18 – 2021

ہندو باغ:  پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری صوبائی صدر افغان ملی شہید ملی اتل محمد عثمان خان کاکڑ کے مزار، علمی مرکزو ریسرچ سینٹر کے تعمیر کے سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر ہندوباغ میں ایک پروقار ملی اجتماع کا انعقاد پشتونخوامیپ کے چیئرمین محترم مشر محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت میں ہوا۔ جس میں پارٹی کے مرکزی صوبائی اور ضلعی وعلاقائی اداروں کے نمائندوں ، پارٹی کارکنوں اور مختلف پارٹیوں کے کارکنوں ، قلعہ سیف اللہ اورہندوباغ کے ہزاروں عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کیں۔

اس پروقار ملی اجتماع سے پشتونخوامیپ کے چیئرمین جناب محمود خان اچکزئی ، پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رضا محمد رضا، مرکزی وصوبائی سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال ، مرکزی سیکرٹری عبید اللہ جان بابت ، پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری یوسف خان کاکڑ، ملی شہید عثمان خان کے فرزند خوشحال خان کاکڑ،پارٹی رہنماء سردار آصف خان سرگڑھ،ضلعی سیکرٹری اللہ نور خان ، ضلعی ڈپٹی سیکرٹری حاجی دارا خان جوگیزئی، اے این پی کے جوائنٹ سیکرٹری ہدایت اللہ کاکڑنے خطاب کیا ۔ جبکہ شاعر عبدالرحیم مخلص نے اشعار پیش کیئے اور سٹیج سیکرٹری کے فرائض ضلعی ڈپٹی سیکرٹری کمال خان سرانجام دیئے اور تلاوت کلام پاک کی سعادت مولوی نصراللہ نے حاصل کی۔ اور انجینئر صائم نے اس موقع پر اجتماع کو تعمیراتی کام کے حوالے سے بریفنگ دی ۔اس موقع پر پارٹی کے صوبائی نائب صدر عبدالقہار خان ودان، صوبائی ڈپٹی سیکرٹریز محمد عیسیٰ روشان، ایم پی اے نصراللہ خان زیرے، علائوالدین کولکوال ، فقیر خوشحال کاسی ، سابق ایم پی اے سید لیاقت آغا ویگر پارٹی رہنماء بھی موجود تھے۔ جناب محمود خان اچکزئی نے ملی شہید عثمان خان کاکڑ کو پشتون قومی سیاسی تحریک کا ایک عظیم اور بہادر رہنماء قرار دیتے ہوئے ان کے ناقابل فراموش قومی سیاسی خدمات اور قربانیوں پر زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے خاندان اور ضلع قلعہ سیف اللہ کے پارٹی کارکنوں کو ملی شہید کی مزار اور علمی مرکز کی تعمیر پر داد وتحسین پیش کیا ۔ انہوں نے ملی شہید کے مزار کیلئے وطن دوست اور قوم دوست مخیر حضرات کی عطیات پر ان کا تہہ دل سے شکریہ اداکیا ۔

انہوں نے کہاکہ پشتونخوامیپ نے قومی بقاء اور قومی حقوق واختیارات کے حصول کیلئے جدوجہد کی سخت ترین مراحل سے گزری ہے ۔ ایسا وقت بھی آیا کہ پارٹی کی قیادت اور کارکنوں پر ریاستی اداروں کی ایماء پر ایسی بدترین جنگ مسلط کی گئی کہ اس میں ٹینک ،ہیلی کاپٹر کے علاوہ ہر قسم کی مہلک ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال کیا گیا ،کارکنوں کی جانی نقصانات اور تاوانوں کے باوجود پارٹی نے اپنے تدابیر اور صبر واستقامت کی بدولت ان مشکلات پر قابوپایا اور اب پارٹی کو موجودہ صورتحال میں بھی احتیاط ،بہتر تدابیر اور بہتر حکمت عملی سے موجودہ سنگین صورتحال کو اپنے وطن اور قوم کے حق میں تبدیل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دین اسلام اور قرآنی تعلیمات یہی ہے کہ شہید مرتا نہیں بلکہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے ۔ ہمارے شہدا نے قوم اور وطن کی دفاع میں اپنے جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے ہماری قومی تحریک میں ان کو عزت واحترام کے ساتھ یاد رکھا جائیگا۔ ہمارے ان مایہ ناز فرزندوں کو وطن کے جوان اور بیٹیاں اپنے قومی نغموں اور سنگیتوں میں یاد کرتے ہوئے داد وتحسین پیش کرتے رہینگے ۔ انہوں نے کہا کہ عثمان خان کاکڑ نے پشتون افغان ملت کی قومی بقاء اور قومی حقوق واختیارات کی جدوجہد کے نہایت ہی مشکل دور میں قومی تحریک کی رہنمائی اور تنظیم کاری میں قابل فخر کردار ادا کیا ان کے مزار اور علمی مرکز کی افتتاح کی تقریب قومی اہداف اور قومی مقاصد کے حصول کیلئے تجدید عہد کا ایک اہم موقع ہے۔

پارٹی رہنمائوں نے بجا طور پر شہید رہنماء کے قومی رول اورقربانیوں پر تفصیل سے اظہار کیا۔ میں نے جلال آباد میں خان عبدالغفار خان باچا خان کے جنازے کے اجتماع کے موقع پر کہا تھا کہ یہاںجلال آباد میں ایک اور عظیم ملی رہنماء غازی امان اللہ خان مدفون ہے اوراب ایک دوسرے عظیم قومی رہنماء باچا خان کو سپرد خاک کررہے ہیں ان جیسے عظیم قومی رہنمائوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم ان کے متعین کرد ہ قومی اہداف کے حصول کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں۔اور آج میں ملی شہید عثمان خان کاکڑ کے مزار ،علمی سینٹر کے سنگ بنیاد رکھنے کی مناسبت سے اس قومی اجتماع میں شریک ہوں ۔ اور میں آج اس مناسبت سے پشتون قومی تحریک کے کارکنوں سے یہی استدعا کرتا ہوں کہ وہ ان قومی اہداف کے حصول کیلئے بھرپور جدوجہد کریںجن کا تعین خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی نے کیا تھا اور ان قومی اہداف کے حصول کیلئے شہید عثمان خان نے اپنی زندگی قربان کی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو مزید متحدومنظم کرنا مجھ سمیت تمام کارکنوں کا اولین فریضہ ہے ہم سب نے پارٹی کے منشور وآئین کی پابندی کرنی ہوگی ۔

میں نے تو پختہ عزم کر رکھا ہے کہ اپنی پارٹی کے پلیٹ فارم سے قومی ارمانوں کی تکمیل کیلئے مرتے دم تک سرگرم عمل رہونگا اور پارٹی کے پرچم کو بلند رکھونگا کیونکہ میں نے اپنے ضعیف والد خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کو اس جھنڈے میں لپیٹ کر دفن کیا تھا ۔ انہو ںنے کہا کہ پشتون قومی تحریک اپنے تاریخ کے انتہائی حساس اور نازک صورتحال سے دوچار ہے ہمیںانتہائی چالاک اور طاقتور دشمنوں کا سامنا ہے ایسے حالات میں پارٹی رہنمائوں کو اپنے کردار وگفتار میں بہت احتیاط اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور پارٹی ڈسپلن پر سختی سے کاربند رہنا ہوگااو رپارٹی کے متعین کردہ قومی اہداف کے حصول کی جدوجہد کے دوران ہر رہنماء وکارکن پر لازم ہے کہ وہ پارٹی کے منشور وآئین اور نظم وضبط کے تمام اصولوں پرعمل کریں۔ انہوںنے کہا کہ مادر وطن اور اس کی مٹی اندھی نہیں ہوتی جو اپنے ان فرزندوں کی قربانیوں اور جدوجہد کو فراموش کرے جنہوں نے مادر وطن اور اپنی مٹی کی خاطر اپنے سروں کا نذرانہ پیش کیا ہو۔