کوئٹہ: بلوچستان پیس فورم کے سربراہ وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ تعلیمی ادارے باعزت اقوام کیلئے آب حیات کی حیثیت رکھتے ہیں، کتاب اس آب حیات کی طرف راستہ دیکھانے کا ذریعہ ہے ، سماج کو قریب لاکر کتاب سے رشتہ جوڑ کر نفرتیں ختم کی جاسکتی ہیں، تعلیم محض نوکری کے حصول کا ذریعہ نہیں لوگوں کو ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کرنے کا اختیار ملے تو سیاست میں قیادت کا قحط خم ہوجائے گا ۔ یہ بات انہوں نے گزشتہ روز پنجاب یونیورسٹی کے ایگزیکٹو کلب میںپروفیسر ڈاکٹر ذیشان بلوچ کی جانب سے منعقدہ مزاکرے سے خطاب، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔
اس موقع پر سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی، حفیظ اللہ نیازی، پروفیسر ڈاکٹر مجاہد منصوری، پروفیسر ڈاکٹر شفیق جالندھری، ارشاد اللہ چٹھہ، ڈاکٹر شبیر اے خان، ڈاکٹر عبدالحمید، ابو الحسن، ڈاکٹر ملک وقار، ایوب بھٹی اور صابر سبحانی سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔پنجاب یونیورسٹی میں ہونے والے مزاکرے اور تھنک ٹینک سے ملاقات میں ملکی بین الاقوامی حالات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔نوابزادہ لشکری رئیسانی نے سینئر صحافیوں ،دانشوروں پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر ز ، اکیڈمک اسٹاف کو کتاب دوست تحریک کے پس منظر سے آگاہ کرتے ہوئے اپیل کی کہ وہ کتاب دوست تحریک میں اپنا حصہ ڈالیں تاکہ ان کی جانب سے عطیہ کردہ کتابیں بلوچستان کے تعلیمی اداروں ، پسماندہ علاقوں کی لائبریریوں تک پہنچائی جائیں، مزاکرے سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا کہ پرائمری سے یونیورسٹی تک تعلیمی ادارے باعزت اقوام کیلئے آب حیات کی حیثیت رکھتے ہیں ، جو قومیںاپنے تعلیمی اداروں کومحض علم کیلئے محدود رکھی ہیں وہ ادارے ان قوموں کیلئے قومی آب حیات ہیں ہمیں اس آب حیات کا راستہ کتاب ہی دیکھاتی ہے۔
بلوچستان پیس فورم کتاب دوست تحریک کے ذریعے بلوچستان کو کتابیں پڑھنے کی جانب راغب کرنے کیلئے جدوجہد کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سماج کوقریب لانے کیلئے نفرتوں کا خاتمہ ضروری ہے اوریہ تب ممکن ہے جب ہمارا رابطہ کتاب سے ہوگاوہ قومیں جو خود کو کتابوں سے جوڑتی ہیں وہ کبھی نہ تو کسی کے دھوکے میں آتی ہیں نہ ہی کسی کے مقاصد کیلئے استعمال ہوتی ہیں کیوں کہ ان کا تعلق علم سے ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کتاب دو ذہنوں ، دو افراد دو مکاتب فکر معاشرے اور تہذیب کے درمیان ڈائیلاگ کا کردار ادا کرتی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ سازش کے تحت جن نفرتوں کو ہمارے معاشرے کی جڑوں تک پہنچایا گیا ہے اس کو علم، ادب اور ڈائیلاگ کے ذریعے ختم کریں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت سیاست کے ارتقائی عمل کی پیداوار ہوتا ہے مگر پاکستان بالخصوص بلوچستان میںسیاست سانحات، واقعات اور سازشوں کا شکار ہورہی ہے جس سے ارتقائی عمل سبوتاژ ہوا ہے ملک اور صوبے میں سیاسی عمل کو پروان چڑھنے دیا جائے اور لوگ اپنے ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں تو ملک کی سیاست میں قیادت کا قحط خم ہوجائے گا۔نوابزادہ لشکری رئیسانی نے نوجوانوں کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ نوجوان تعلیم معاشرے کی خدمت کیلئے حاصل کریں نہ کہ نوکری کیلئے جو قومیں تعلیم علم کیلئے حاصل کرتی ہیں وہ حکومت کرتے ہیں اور جو نوکری کیلئے حاصل کرتے ہیں وہ نوکر ہی رہتے ہیں ۔ اس موقع پر پنجاب یونیورسٹی کے پروائس چانسلر نے بلوچستان کتاب دوست تحریک کیلئے کتابیں دینے کا اعلان کیا جبکہ نوبزادہ لشکری رئیسانی نے پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد کو پی ایچ ڈی مکمل کرنے پر پھولوں کا گلدستہ دیا۔مزاکرے کے اختتام پر نوابزادہ حاجی میر لشکری رئیسانی اور ان کے ساتھیوں کے اعزاز میں پرتکلف عشائیہ بھی دیا گیا ۔