کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسی بلوچ مرکزی کمیٹی کے ممبر وضلعی آرگنائزر غلام نبی مری ،آرگنائزنگ کمیٹی کے اراکین ملک محی الدین لہڑی ،ڈاکٹرعلی احمدقمبرانی ،ستار شکاری اور پارٹی ممبر کامریڈ ملک نذیراحمد دہوار نے پیر کے روز بلوچستان میں یو نیو رسٹی میں جاری لاپتہ طلبا کی گمشدگی کے خلاف جاری دھرنے پر بیٹھے طلبا سے اظہار یکجہتی کی اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پارٹی رہنمائوں نے حکومت وقت سے مطالبہ کیاہے کہ جامعہ بلوچستان سے لاپتہ طلبا کو فوری طورپر منظرعام پر لائے جائیں۔
اگر لاپتہ طلبا کے خلاف کیسز یا ان پر الزام ہے تو پھر انہیں ملکی آئین وقانون کے مطابق عدالت میں پیش کیاجائے بدقسمتی سے آج بلوچستان کے تعلیمی ادارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آماہ جگاہ بنے ہوئے ہیں بلوچستان پہلے سے تعلیمی حوالے سے پسماندگی کا شکار ہے ۔انہوں نے کہاکہ ایک سوچے سمجھے سازش کے تحت یونیورسٹی میں ایف سی کی موجودگی کے باوجود دن دیہاڑے طلبا کی گمشدگی سوالیہ نشان ہے کیمروں کی موجودگی کے باوجود طلبا کی گمشدگی اور پھر کیمروں کے خراب ہونے کی باتوں سے تمام تر سازش واضح ہورہاہے بلوچستان نیشنل پارٹی اس طرح کے قبح عمل کی اجازت نہیں دے سکتی ،جب سے وائس چانسلر نے اپنا منصب سنبھالاہے جامعہ بلوچستان مالی بحران سمیت مختلف مشکلات سے دوچار ہیں۔
کرپشن کا بازار گرم جبکہ تدریسی عمل متاثر ہیں نہ صرف انسانی حقوق بلکہ آئین پاکستان کے تحت تعلیم ہر پاکستانی کا حق ہے لیکن یہاں تو تعلیمی ادارے بھی محفوظ نہیں دن دیہاڑے طلبا کو لاپتہ کیاجارہاہے جس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہونگے ۔بلوچستان نیشنل پارٹی صوبے میں قومی وسائل پر واک واختیار ،ساحل وسائل کیلئے جدوجہد کررہی ہے پارٹی سربراہ سرداراخترجان مینگل کے 6نکات صوبے کے مسائل کے حل کی طرف پیشرفت تھی لیکن جب طلبا کو جامعہ سے لاپتہ کرنے کے واقعات رونما ہونگے تو اس سے بلوچستان کے باسیوں کو منفی پیغام جائے گا۔حکومت وقت جلد سے جلد لاپتہ طلبا کو بازیاب کرائیں ۔