|

وقتِ اشاعت :   December 21 – 2021

کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان علی احمد لانگو کی قیادت میں وفد کی پریس کلب کے سامنے میڈیکل کالجز کے طلبا کے احتجاجی کیمپ آمد اور اظہار یکجہتی،وفد کی طلبا کی احتجاج کی مکمل حمایت اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی وفد میں نیشنل پارٹی کے صوبائی یوتھ سیکرٹری نعیم بنگلزئی ورکنگ کمیٹی کے ممبر انیل غوری ضلعی نائب صدر حنیف کاکڑ ضلعی جنرل سیکرٹری ریاض زہری سینئر کارکن عارف دہوار سمیت دیگر شامل تھے۔

اس موقع پر نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان علی احمد لانگو نے کہا کہ میڈیکل کالجز کے طلبا باقاعدہ طور پر کالجز کے قواعد و ضوابط کو مکمل کرکے داخلہ حاصل کرچکے ہیں اور گزشتہ چند سالوں سے باقاعدگی سے کلاسز لے رہے ہیں اور امتحانات میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔اس کے بعد پی ایم سی کیجانب سے دوبارہ اسپشل ٹیسٹ لینا غیر منطقی اقدام ہے۔جو کہ طلبا کے تعلیمی مستقبل کو دعوے پر لگانے کے مترادف ہے۔جس کی نیشنل پارٹی مذمت کرتی پے۔

نیشنل پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ باشعور دنیا طلبا کو ہرممکن تعلیم سمیت دیگر غیر نصابی سہولیات فراہم کرتا ہے تاکہ وہ بہتر ماحول میں تعلیم حاصل کرکے ملک و معاشرے کی تعمیر کو ممکن بنانے میں کردار ادا کرسکے۔لیکن بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات میں بلوچستان کے طلبا و تعلیمی نظام نہیں۔بلوچستان کے طلبا ماورائے آئین و قانون لاپتہ کیے جاتے ہیں۔تعلیمی حق کے لیے احتجاج کرنے والے طلبا کو تشدد و لاٹھی چارج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کے قاہد ڈاکٹر مالک بلوچ نے سیاسی بصیرت کو بروئے کار لاتے ہوئے بلوچستان میں تعلیمی اصلاحات اور اداروں کے قیام کو ممکن بنایا۔جھالاوان ،مکران اور لورالائی میڈیکل کالجز کا قیام کو ممکن بنا کر صوبے میں تعلیمی ترجیحات کو واضح کیا۔نیشنل پارٹی کے رہنماں نے کہا کہ نیشنل پارٹی صوبے میں تعلیمی اداروں اور طلبا کے مستقبل پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرسکتا ہے۔اور متعلقہ اداروں کو واضح کرتی ہے کہ طلبا دشمن اقدام سے گریز کریں۔نیشنل پارٹی طلبا کا تمام جائز مطالبات کے حق میں ہے۔