|

وقتِ اشاعت :   December 30 – 2021

کوئٹہ: امیرجماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہاکہ وزیراعظم ریکوڈک منصوبے کا بوجھ برداشت کرنے کے بجائے ماضی وحال خفیہ معاہدے ،لوٹ مار اور کمیشن لینے والوںسے قومی دولت برآمد کی جائے بلوچستان کے منصوبے بوجھ کیوں بنادیے گئے کوئی پوچھنے والا ہے ۔

ریکوڈک ،سیندک اور سی پیک کے ثمرات سے اہل بلوچستان کو محروم کرنے کے ذمہ داروفاق اوربلوچستان کے سابقہ وموجودہ حکمران ہیں بلوچستان کے عوام کو حقوق ووسائل وترقی سے محروم کرنے کی روش ٹھیک نہیں۔

منی بجٹ لاکر حکمران آئی ایم ایف کے مطالبات مانگ کر عوام پر مہنگائی کے مزیدڈرون حملے کریں گے ۔اسٹیٹ بنک سمیت ملکی معیشت آئی ایم ایف کے حوالے سے کرکے عوام دشمنوں نے ناقابل معافی جرم اور قوم کو مستقل معاشی غلامی کے دلدل میں پھنسا دیا جس سے مشکلات وپریشانیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگا ۔

انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی حق دو تحریک چلاکر حکمرانوں کو خواب غفلت اورقوم کو بیدار کریگی تاکہ بلوچستان کے تمام علاقوں کے عوام کو ان کے جائز حقوق مل سکیں بلوچستان کے وسائل پر بدعنوان لٹیرے مزے کررہے ہیں جبکہ عوام کاکوئی پوچھنے والا نہیں۔

بلوچستان کے مسائل کے ذمہ دارسابقہ وموجودہ وفاقی حکومت اور حکمران واپوزیشن جماعتیں ہیں ۔ذاتی مفادات ،کمیشن وکرپشن کی وجہ سے سیاست بدنام ہوگئی ہماری سیاست کامقصد نفاذاسلام ،مسائل کا حل ہے ۔

حکمران صرف بہانے ،وعدے اورخالی خولی اعلانات کرتے ہیں قول وفعل میں تضاد،کمیشن وکرپشن کی وجہ سے عوام کاسیاستدانوں پر اعتماد اُٹھ گیا ہے ۔نفاذاسلام کی جدوجہد اور عوامی مسائل کو حل کرنے والے جماعت اسلامی ہیں جماعت اسلامی ہی کے پاس عوام کے مسائل کا حل ہے۔

حکمران سی پیک کے ثمرات اہل بلوچستان کو دے دیں ۔ریکوڈک ،سیندک اورسی پیک سٹی کے ثمرات کے حصول ،مسائل کے حل اورحقوق کے حصول کیلئے جدوجہد عوام کا حق ہے ۔عوام کے حقوق کے حصول کیلئے جماعت اسلامی جدوجہد کرتی رہیگی ۔

انشاء اللہ ہم اس جدوجہدمیں کامیاب ہوں گے ۔ بلوچستان کے عوام کو دیگر صوبوں کے مطابق حقوق دینے کیلئے حق دو تحریک کو صوبہ بھر میں منظم وفعال کیاجائیگا ۔جماعت اسلامی کے مرکز صوبہ واضلاع حق دوتحریک کیساتھ ہے انشاء اللہ حق دو تحریک کی بدولت بلوچستان کی محرومیوں میں کمی آئیگی۔

بلوچستان کے عوام کو تعلیم صحت روزگار اور بنیادی آئنی حقوق دیکر ہی احساس محرومی وغربت سے نجات ممکن ہے ۔حکومت بلوچستان حق دوتحریک دھرنا شرکاء سے کیے گیے معاہدے پرمکمل عمل درآمد یقینی بنائیں ۔بلوچستان کے حقوق غصب کرنے والوں کے خلاف سیاسی مذاحمت جاری رہیگی بلوچستان بلخصوص گوادر پورٹ کے وسائل وآمدن پر سب سے پہلے مقامی آبادی کا حق ہے۔ہم نہ سی پیک اور ترقی کے خلاف نہیں بلکہ ظلم وجبر اور ناانصافی کے خلاف ہے ۔