کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کوئٹہ کے صدر غلام نبی مری نے کہ پڑو ادبی کچار ی اور نشت ا ٓن لائن کی جانب سے سال نو کی مناسبت سے لگائے گئے کتاب میلے کا دورہ کرتے ہوئے کتاب میلہ منقعد کرنے والو ں کے کتاب دوستی ،جذبہ اور حوصلوں کو سراتے ہوئے کہا کہ ان کی کاوشوں اور کتاب دوستی کو مد نظر رکھتے ہوئے منیر احمد چوک کا نام بدل کر کتاب چوک رکھا جائے۔
تفصیلات کے مطابق سال 2022 کی آمد کے مناسبت سے سال2020 اور 2021 کی طرح پڑو ادبی کچاری کے چئیرمین سعید نور اور ساتھیوں کی جانب سے بلوچستان کے کتاب میلہ لگا کر کیا گیا جس میں مختلف سیاسی ، مذہبی ، قبائلی کارکنوں کے علاوہ سٹوڈنٹس اور مختلف مکتبہ فکر کے افراد نے شرکت کی ، اس موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی کوئٹہ کے صدر غلام نبی مری نے کہا کہ ان ساتھیوں نے ہر سال کی طرح اس سال بھی کتاب میلہ لگاکر اپنے کتاب دوستی کا ثبوت دیا ہے قومی شعور کو اجاگر کرنے اور بلوچ قوم کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے لانے کیلئے ان کی کاوشوں کو ہمیشہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
اس سال نو کے مناسبت سے لگائے کتاب میلے میں بلوچستان کے نامور شخصیات نے شرکت کی جن میں نواب زادہ حاجی لشکری رئیسانی، بزرگ سیاستدان ڈاکٹر حئی بلوچ، بی این پی کوئٹہ کے صدر غلام نبی مری، پروفیسر حسین بخش ساجد ، لالا موسیٰ، کامریڈ حمید ریڈ سریاب کے سٹوڈنٹس اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے سیاسی و سماجی کارکنان نے شرکت کی۔ پڑو ادبی کچاری کی جانب سے لگائے گئے سال نو کے مناسبت سے لگائے گئے بک میلے میں انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پڑو ادبی کچاری کے چئیرمین سعید نور،نشت اور ان کے ساتھیوں کی کاوشیں بلوچستان کے مثبت چہرے کو دنیا بھر میں نمایاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو کتاب کلچر کی اشد ضرورت ہے ہمیں کتاب بینی کو فروغ دینا ہوگا کیونکہ اگر ہم میں مطالعہ کی کمی ہوگی توہم پر اسمبلیوں میں نالائق افراد حکمرانی کرتے رہینگے ، انہوں نے کہاں کہ آج بلوچستان کے سائل وسائل سب ہم سے چینا جارہا ہے
گوادر ہو یا سیندک ،سوئی ہو یا ریکوڈک ان کو اپنا حقوق جاننے کے لیئے ہمیں پڑھنا ہوگا اور ان سے استحصالی قوتوں سے لینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پڑو ادبی کچاری جو کہ مسلسل پچھلے تین سالوں سے سال کتاب کلچر کو فروغ دینے کے لئے جو جہد کر رہی یہ ان کی ہمت ہے گو کہ ان کی افرادی قوت زیادہ نہیں مگر انہیں حوصلہ اور ہمت سے اس کام کو آگے بڑھانا ہوگا جس کے لئے ہم ہر قسم کی مدد کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے کتاب میلے کے توسط سے تمام بلوچستان کو یہ پیغام دیا کے وہ سعید نور اور ان کے ساتھیوںجیسے نوجوانوں کی ہر حوالے سے مدد کریں کیونکہ ایسے افراد ہمارے لئے قابل قدر ہیں انہی دوستوں کی وجہ سے بلوچ قوم اور بلوچستان کا مثبت چہرہ سامنے آرہا ہیں جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہیں۔