|

وقتِ اشاعت :   January 4 – 2022

کراچی: ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی مجیب الرحمان قمبرانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال کی غلط منظرکشی کی جارہی ہے۔ گوادر نے جتنی مشکلیں دیکھنی تھیںدیکھ لیں۔ اب ہم ترقی کی شاہراہ پر کھڑے ہیں۔

گوادر کی ماسٹر پلاننگ ہوگئی ہے۔ ماسٹر پلان میں زمین کے استعمال کی وضاحت کی گئی ہے۔وہ منگل کو سندھ بلوچستان انٹرنیشنل بزنس فورم کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے ظہرانے کی تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔اس موقع پر چیئرمین بلوچستان فشرمینز کوآپریٹیو سوسائٹی سردار کامران لاسی اور جسٹس (ر)خواجہ نوید نے بھی خطاب کیا ۔مجیب الرحمن قمبرانی نے کہا کہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور کراچی ٹو گوادر فیری سروس پر کام کررہے ہیں۔ جی ڈی اے میں سیاحت کا الگ شعبہ قائم کردیا ہے۔ مارچ میں اسپورٹس فیسٹیول کا انعقاد کریں گے۔

مقامی سرمایہ کاروں کے لئے سرمایہ کاری کا بہترین موقع ہے۔انہوںنے کہا کہ گوادر کا لینڈ مارک ماسٹر پلان گرین بلٹ انڈسٹیل اریریا اور دیگر ہے۔ گوادر میں پانی ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔ایک اسکیم کے تحت ہم نے یہ مسئلہ حل کردیا ہے ۔ہمارے پاس دو بڑے ڈیم ہیں ۔ہمارے پاس اب پانی اتنا آگیا ہے کہ ہم سپلائی نہیں کر پا رہے۔گوادر میں بجلی کا مسئلہ بھی حل ہونے کی جانب گامزن ہے۔انہوںنے کہا کہ اس وقت پوری دنیا گوادر میں سیاحت پر غور کررہی ہے ۔ہم بیرون ملک کی میونسپل سے خود بات کریںگے ۔میں اس سلسلے میں خود دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کروں گا ۔مجیب الرحمن قمبرانی نے کہا کہ ہم نے کراچی میں اپنا سب آفس بنا لیا ہے ۔میں خود کراچی آتا رہو گا۔گوادر میں ٹرانسپورٹ کے مسائل کو بھی حل کریںگے ۔انہوںنے کہا کہ گوادر میں ترقیاتی کام جاری ہیں ۔میری کل آباد کے عہدیداروں سے ملاقات کی ہوئی ہے ۔گوادر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کی جارہی ہے ۔ہم شہر میں ڈاؤن ٹاؤن بنارہے ہیں ،جس میں انٹرنیشنل معیار کا سینما اور7اسٹار ہوٹل تعمیر ہوںگے۔

چیئرمین بلوچستان فشرمینز کوآپریٹیو سوسائٹی سردار کامران لاسی نے کہا کہ بلوچستان کا ساحل سیاحتی سرمایہ کاری کا بہترین موقع ہے۔ بلوچستان یورپ سے زیادہ محفوظ ہے۔ بلوچستان کا مقامی شرپسند نہیں، مہمان نواز ہے۔ ساحلی پٹی پر حکومت سیرگاہیں بنارہی ہے۔ ملاح کے شکار کو عالمی سطح پر فروخت کرنے کا نیلامی نظام بنا رہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ ہاربر کے مسائل ہیں، یورپ میں ہمارا شکار بیچنے پر پابندی ہے۔ ہماری انتظامی غلطیاں ہیں، فشریز کے شعبے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ملکی جی ڈی پی میں فشریز کا حصہ ایک فیصد ہے، کئی ملکوں میں یہ دس فیصد ہے۔گوادر کی ماسٹر پلاننگ مکمل ہے، چینی تیزی سے کام کررہے ہیں۔

انہوںنے کہا کہ میں سی ڈی اے بورڈ کا ممبر بھی ہوں ۔سیاحت کے لیے کند ملیر، گڈانی، سونمیانی، اوڑمارہ میں کام جاری ہیں ۔ریزورٹ تعمیر کیے جارہے ہیں ۔جسٹس (ر)خواجہ نوید نے کہا کہ گوادر میں سیاحت کا سب سے بڑا مسئلہ سکیورٹی کا ہے۔چائنہ کے تعاون سے سب سے بڑا ایئر پورٹ گوادر میں بنایا جارہا ہے ۔ گوادر میں دبئی کے طرز پر بڑے پروجیکٹ بنائے جائیں ۔ گوادر میں چائنیز تو آ رہے ہیں میں چاہتا ہوں اپنے لوگ بھی آئیں ۔