|

وقتِ اشاعت :   January 4 – 2022

کوئٹہ: ایڈیشنل سیکرٹری سیکنڈری ایجوکیشن میر باز مری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں شعبہ تعلیم کو میں عصری تقاضوں سے ہم آہنگ اور مربوط بنانے کے لیے سرکاری اسکولوں میں غیر موجود سہولیات کی فراہمی بنیادی حامل کی جز ہے۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے حکومت بلوچستان محدود وسائل میں رہتے ہوئے اقدامات اٹھا رہی ہے۔

جبکہ ڈوپلمنٹ پاٹنر یونیسف کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔ یہ بات انہوں نے یونیسف کی جانب سے شعبہ تعملم کے پروگرامز میں وسعت لانے کے حوالے سے اجلاس سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں یونیسف بلوچستان کی ایجوکیشن اسپیشلسٹ پلوشہ جلالزئی، ایجوکیشن آفیسر سہرش ناگی، کوارڈینیشن آفیسر پروفیسر(ر) سعد اللہ توخی، اسسٹنٹ فوکل پرسن پی پی آئی یو ایمل خان، چیف پلاننگ آفیسر عبد الخالق نے شرکت کی۔ اجلاس کو یونیسف کے حکام نے بتایا کہ اس وقت یونیسف صوبے میں 20 اضلاع میں مختلف انڑونشن پر محکمہ تعلیم کے ساتھ سیکنڈری ، پرائمری ، کمیونٹی سکولز سمیت اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت اور استعداد میں اضافے کے لیے خدمات سر انجام دے رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ اقدامات میں پانچ سالہ2020تا 2025 بلوچستان ایجوکیشن سیکڑ پلان کو مرتب کرنے اس کے جائزہ اور عمل درآمد میں محکمہ تعلیم کی معاونت کر رہا ہے، جبکہ ہیومن ریسورس کی استعداد کار میں اضافے کے لیے PITE، BEAC، BOC، BTBB، DOE، PPIU کی سطح پر نمایاں اقدامات اٹھا رہی ہے، اسی طرح سکول کی سطح پر والدین، کمیونٹی کہ مثبت کردار اور اسکول ڈیولپمنٹ پلان میں تکنیکی مشاورت کی فراہمی سمیت سکولوں کی سطح پر ہیلتھ و ہائجین کی فراہمی میں بھی اقدامات اٹھانے کے لیے محکمہ تعلیم کے ساتھ باہمی اشتراک کی بنیاد پر خدمات سر انجام دے رہی ہے۔ اجلاس سے بات چیت کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکرٹری میر باز مری نے کہا کہ یونیسف صوبے کے دیگر اضلاع جہاں پر ان کے پروگرام شروع نہیں ہیں کو وسعت دینے کی ضرورت ہے، جبکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔