|

وقتِ اشاعت :   January 6 – 2022

کوئٹہ: بلوچ ڈاکٹرز فورم کے مرکزی ترجمان نے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک مہینے سے تین میڈیکل کالجز مکران، جھالاوان اور لورالائی میڈیکل کالجز کے طلبہ پی ایم سی کی جانب سے اعلان کردہ اسپیشل امتحان کے خلاف احتجاجی کیمپ لگا کر بیٹھے ہیں۔

لیکن مجال ہے کہ محکمہ صحت اور حکومت کی جانب سے طلبہ کی داد رسی کیا جائے۔ ترجمان نے کہا کہ بنیادی طور پر کسی بھی میڈیکل کالج یا وہاں پر زیر تعلیم طلبہ کو پی ایم سی کے ساتھ رجسٹریشن کرنا کالجز انتظامیہ اور محکمہ صحت کا کام ہے. لہذا کالجز اتنظامیہ اور صوبائی حکومت پی ایم سی کے شرائط کو پورا کرکے طلبہ کو رجسٹر کروائیں یا پی ایم سی رول کے مطابق جرمانہ ادا کریں.

اس کیلئے طلبہ کو کسی اسپیشل امتحان میں دھکیل کر ان کی تعلیمی کیرئیر کو داؤ پر نہ لگایا جائے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کی غیر سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ پچھلے ایک مہینے سے اس ٹھٹرتی ہوئی سردی میں طلبہ کوئٹہ پریس کلب سامنے کیمپ لگا کر احتجاج کر رہے ہیں لیکن صوبائی حکومت کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی۔ترجمان نے آخر میں کہا کہ ہم ڈاکٹرز کمیونٹی کی حیثیت سے حکومت وقت سے گزارش کرتے ہیں کہ جتنا ممکن ہو سکے میڈیکل کے طلبہ کی مسائل کسی بھی صورت پر حل کریں تاکہ طلبہ خوش اسلوبی کے ساتھ اپنی تعلیمی کیرئیر جاری رکھیں۔