پشین : پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے مرکزی نائب صدر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ غیور عوام کی پارٹی میں بڑ ی تعداد میں شمولیت پر پارٹی کارکنوں نے غرور اور تکبر سے گریز کرتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کرنا ہوگا ، پشتون ملت کی سیالی ،برابری اور قومی واک واختیارلازمی ہے ،پشتون افغان ملت دہشتگرد اور فرقہ پرست نہیں ،ظالم اور مظلوم کی لڑائی میں ہر سطح پر اور ہر قسم کے حالات میں مظلوم کا ساتھ دینگے ،پشتونخواوطن کے اچھے باہمت اور نامور افرادکو اکھٹے کرکے متحد کرنے اور ان کے جرگوں کے ذریعے درپیش رنجشوں کے مسائل حل کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی ۔
افغانستان پر چالیس سال جنگ مسلط کرنے کے باوجود پشتون افغان ملت کے خون کے پیاسوں کی پیاس نہیں بجھی ہے ، اسلام پشتون افغان ملت کی زندگی کے ہر شعبے میں موجود ہیں ، پشتونخوا وطن کی ملی وحدت کی بحالی اور قومی خودمختار صوبہ پشتون ملت کا انسانی ،اسلامی اور قومی حق ہے ،اس مشترکہ صوبے میں پشتون بلوچ کی ہر شعبہ زندگی میں برابری تسلیم کرنا دونوں اقوام کی روشن مستقبل کا ذریعہ بن سکتا ہے ، پارٹی کانگرس کا انعقاد کرتے ہوئے پارٹی کو مزید وسیع ،منظم اور فعال بنائینگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کلی کربلا میں پارٹی میں 183افراد کی شمولیت کے موقع پر منعقدہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس سے پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات وضلعی سیکرٹری محمد عیسیٰ روشان ، پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن سابق ایم پی اے سید لیاقت آغا ،سردار امجد خان ترین اور سید حاجی قطب الدین آغا نے بھی خطاب کیا ۔
جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض سید اکبر آغانے سرانجام دیئے اور تلاوت کلام پاک کی سعادت احمد اللہ نے حاصل کی۔محمود خان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کے پھیلنے کے دوران مشکل وقت بھی آتے رہے لیکن جب بعد میں لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوتے ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ میری نصرت ہے اور اب جوق در جوق لوگ شامل ہوتے جائینگے اور اس پر مغرور مت ہونا بلکہ اللہ کا حمد پڑھتے ہوئے شکر ادا کرتے رہو اور توبہ نکالتے رہو اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والوں میں سے ہے ۔انہوں نے کہا کہ پشتونخوامیپ کے عہدیداروں وکارکنوں نے بھی اسلام کے اس مقدس اصولوں کو یاد رکھتے ہوئے اپنے پارٹی میں لوگوں کی جوق در جوق شمولیتوں پر غرور وتکبر سے ہر حالت میں اجتناب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کا حکم ہے کہ زمانے کی قسم تمام انسانیت نقصان میں ہے ماسوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائیں اور صالح اور پاک عمل کی اور حق کی تبلیغ کرتے رہے اور حق کی تبلیغ کے دوران درپیش تکلیف پر راضی ہوئے اور اُسے برداشت کرتے ہوئے صبر کو اپنایا ۔ انہوں نے کہ عیسوی نئے سال کی شروعات خوش آئند ہے ہمیں اچھے بارشوں اور برفباری ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں نے بھی نئے سال کے ساتھ اپنی فعالیت کو دوبالا کرتے ہوئے پارٹی کو ہر سطح پر مزید منظم اور فعال بنانا ہوگا اور مجھ سمیت سب نے اپنے آپ میں مثبت تبدیلی لانی ہوگی اور ہر قسم کی خلاف ورزیوں سے اجتناب کرتے ہوئے پارٹی نظم وضبط کے ساتھ جدوجہد کو آگے بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر خدانخواستہ ہماری کوئی بھی بات اسلام کے مقدس اصولوں اور پشتون غیرت کے منافی ہو تو کوئی بھی فرد اُس کی نشاندہی کرسکتے ہیں۔
۔
اور ہم پھر کبھی اُس کا اعادہ نہیں کرینگے ۔ انہو ںنے کہا کہ وطن کے ہر گلے کوچے اور ہر گائوں وشہروں کے دوروں کامقصد قوم کو متحد ومنظم کرنا ہے اور صرف پانچ افراد کے سرمایہ کے ذریعے قوم کی آبادی وترقی ممکن نہیں بلکہ تمام پشتون ملت کی سیالی ،برابری ،قومی خودمختاری اور اپنے تمام معدنی وسائل پر قومی واک واختیار لازمی ہے کیونکہ پشتون ملت کو آج بھی پاکستان میں سنگین اور اذیت ناک صورتحال کا سامنا ہے اگر ہمارے اور آپ کے اس علاقے میں امریکہ ،فرانس یا جرمنی کی کوئی خاتون گُم ہوجائیں تو اُس کی خاطر سارے پاکستان کو مجبور کیا جائیگا جب کہ پشتون ملت کے معصوم بچے دن رات مررہے ہیں اور ایسے ہزاروں گھرانے موجود ہیں جنہوں نے کئی مہینوں تک مناسب روٹی تک نہیں کھائی ہوگی اور اب بھی اُس کا کوئی پرساں حال نہیں اور یہی سیالی اور نا سیالی کا فرق ہے ۔انہو ںنے کہا کہ ایک طرف غیور پشتونوں کو جہاد کے نام پر لڑاتے ہوئے اُنہیں صحابہ کرام سے تشبیہ دیتے تھے اور دوسری طرف تمام دنیا کے سامنے اُنہیں دہشتگرد ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں جو قابل مذمت اور قابل گرفت ہیں جبکہ پشتون افغان ملت تاریخ میں کبھی بھی دہشتگرد اور فرقہ پرست نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام انسانیت بابا آدم ؑ اور بی بی حواانا کی اولاد ہیں اور کسی سے بھی رنگ ،نسل ،مذہب اور زبان کی بنیاد پر نفرت نہیں کرتے اور دنیا کے ہرانسان کواپنی قوم، اپنی مذہب ، اپنی ثقافت اور اپنی زبان عزیز ہے اور یہی تمام چیزیں ہمیں بھی عزیز ہے ہم اور آپ نے اپنی اولادوں کو یہ تربیت دینی ہوگی کہ وہ کسی کی دل آزاری نہ کریں ہمیں بھی اپنی مذہب، اپنی مسجد ، اپنی ثقافت ،اپنی زبان عزیز ہے دوسروں کو ہماری انسانی ، اسلامی اور معاشرتی اقدار کا احترام کرتے ہوئے ہم اُ ن کے اقدار کا احترام کرینگے خدا کا حکم ہے کہ میری خدائی کی ایک نشانی یہ ہے کہ میری پیدا کردہ انسانیت ایک زبان نہیں بولتے اور دوسری جگہ خدا تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اُن مقامات کو پتھر مت مارو جہاں مجھے یاد کیا جاتا ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ پارٹی عہدیداروں اور کارکنو ںنے اپنی پارٹی کے اس کریکٹر کو ہر حالت میں یاد رکھنا ہوگا کہ ہم انٹی امپریسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ظالم اور مظلوم کی جنگ میں ہمیشہ مظلوم کا ساتھ دینگے اب بھی ہمارے معاشرے میں ایسے افراد اور گروہ موجود ہیں۔
جومعمولی اکثریت کے بل بوتے پر اقلیت پر بالادستی رکھنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں اب بھی انصاف نہیں اور ہمارے عوام کو معمولی رنجشوں کے باعث مشکلات درپیش ہیں ہم نے وطن کے باہمت اور اچھے اور نامور اشخاص کو متحد ومنظم کرکے اُن کے جرگوں کے ذریعے ان علاقائی ، کاروباری اور قبائلی رنجشوں کے خاتمے کیلئے کوششیں کرنی ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں اب بھی خامیاں موجود ہیں لیکن ہمیں ان خامیوں کے خاتمے اور اپنے معاشرے کے مثبت اقدار کو ابھارتے ہوئے انہی عوام میں سے پارٹی بنانی ہوگی اور سچ وحق کے راستے پر گامزن ہوکر ہر حالت میں حق کا ساتھ دینا ہوگا چاہے ہمیں اپنے بیٹے ، بھائی اور بھتیجے کے خلاف ہی فیصلہ کرنا پڑے ۔انہوں نے کہاکہ افغانستان پر مسلط چالیس سالہ جنگ کے باعث لاکھوں عوام شہید ،زخمی ودپدر ہوئے اور پشتون افغان ملت کے خون کے پیاسوں کی پیاس اب بھی نہیں بجھی اور افغانستان مزید کسی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا اور ہم تمام پشتون افغان ملت پر یہ واضح کرتے ہیں کہ افعانستان کی استقلال کو قائم ودائم رکھتے ہوئے افغان عوام کے نمائندہ لویا جرگہ کا انعقاد ضروری ہے جو آئندہ کے حکومتوں کی طاقت کے زور پر تبدیلی کے طریقہ کار کو ختم کریںاور ایسی وسیع البنیاد حکومت کی تشکیل کریں جو موجودہ دنیاکے سیاسی جمہوری انسانی اور اسلامی اصولوں اور قومی اقدار کے مطابق ہو ۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا وطن کھربوں روپے کے معدنی وسائل سے مالامال ہے اور دنیا کی زور آور قوتیں اس خطے کو پھر جنگ کامیدان بناکر ہمارے وسائل پر نظریں رکھے ہوئے ہیں ۔
انہو ںنے کہا کہ اسلام پشتون افغان ملت کے زندگی کے ہر شعبہ زندگی میں شامل اور پیوستہ ہے اور ہماری زندگی کا مکمل حصہ ہے پشتون افغان معاشرے میں اسلام اور ان کے اصولوں سے روگردانی کسی بھی صورت ممکن نہیں ۔انہو ںنے کہا کہ ہمارے غیور عوام کی بہت بڑی تعداد تلخ مسافرانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ہمارے مسافر عوام نے غیر قوم کے وطنوں میںمحنت مزدوری کرتے ہوئے ایمانداری اورانسانی واسلامی اقدار کو یاد رکھنا ہوگا جبکہ دیار غیر میں مسافرانہ زندگی انسان کے تجربوں اور علم ومعلومات کے اضافے کا ذریعہ بھی بنتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پشتونخوا وطن کی ملی وحدت کی بحالی اور پشتون قومی خود مختار صوبے کا قیام پشتون ملت کا انسانی ، اسلامی ،قومی اور آئینی حق ہے اور غیور پشتون عوام اس حق کو حاصل کرکے رہینگے ۔ انہوں نے کہا کہ اس مشترکہ صوبے میں پشتون بلوچ اقوام کی ہر شعبہ زندگی میں برابری تسلیم کرنے کے بعد مشترکہ سیاسی جمہوری جدوجہد اور تحریک کے ذریعے تمام حقوق واختیارات کے حصول کے ساتھ ساتھ پشتون اور بلوچ وطن کے تمام معدنی وسائل کا سیاسی جمہوری طریقے سے دفاع کرسکتے ہیں اور بندوق کے ذریعے جنگ کی ضرورت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اپنے جائز حقوق واختیارات سے دستبردار ہونا انسانی وقار کے منافی ہے اور دوسروں کے حقوق پرقبضہ ظلم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوامیپ کیخلاف دن رات غلط زبان استعمال کرنے والوں پر صرف افسوس کیا جاسکتا ہے حالانکہ پشتون معاشرے کے اقدار کے مطابق ایسی بدزبانی پر ہر فرد اور گروہ کو جواب دیا جاسکتا ہے لیکن ہم پوری قوم کو متحدہومنظم کرکے اُن کے قومی اختیارات ، اُن کے قومی حقوق اور ترقی وخوشحالی اور سیالی وبرابری اور پُرامن زندگی کیلئے جدوجہد کررہے ہیں ۔
اس عظیم جدوجہد کے باعث ایسے لوگوں کو نظر اندازکرتے رہے ہیں اگر ہمارا کوئی عہدیدار اور کارکن کیخلاف کسی بھی فرد ،گروہ اور قبیلے کا کوئی قرض اسلام اور پشتوکے روایات کے مطابق ثابت ہوا تو اس کے ازالے کیلئے تیار ہیں۔لیکن اس کے برعکس ہمارے پارٹی کارکنوں کے متعلق غلط اور منفی تصورات پیش کرنا پشتون قومی اعلیٰ روایات کے منافی ہیں اور اس سے اجتناب بھرتنا ضروری ہے اور ہماری پارٹی کیلئے کسی صورت بھی قابل قبول نہیں۔ جبکہ اجتماع میں پارٹی کے مرکزی وصوبائی سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال، صوبائی نائب صدر عبدالقہارخان ودان ، صوبائی ڈپٹی سیکرٹریز ڈاکٹر حامد خا ن اچکزئی، سید شراف آغا، علائوالدین کولکوال، اور حاجی عبدالحق ، علی محمد کلیوال، حاجی صورت خان کاکڑ، قبائلی رہنماء حاجی مولاداد عرف طور کاکا، سید حاجی حضرت علی آغا نے بھی شرکت کیں۔