کوئٹہ: امیرجماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا کہ حکومت واپوزیشن ذات وپارٹی سے بالاتر ہوکر عوام کے مسائل ومشکلات حل کرنے کیلئے سوچھیں بدقسمتی سے عوامی مسائل ومشکلات اورپریشانیوں کے حوالے سے سب خاموش ہیں۔
بلوچستان کے وسائل بلوچستان پر خرچ ہوگی ملک میں اسلامی نظام ہوگا توعوام کو حقوق ملیگی اورعوام خوش ہوں گے۔بلوچستان کے عوام پر تجارت وروزگار بند کرنے والے عوام دشمن اورکرپٹ مافیا ہیں مافیازکے خلاف منظم جدوجہد کی ضرورت ہے۔وسائل سے مالامال بلوچستان کے عوام آج دووقت کے کھانے کو ترس رہے ہیں۔
جماعت اسلامی ہر ظلم وجبر کے خلاف ہر سطح پر بھرپورآوازبلند کرتی رہیگی عوام جماعت اسلامی کی جدوجہد میں ساتھ دیں تاکہ اسلامی نظام کی راہ ہموار اورمسائل حل ہو۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے عوام کیلئے حکومت نے تجارت وروزگارکیلئے کوئی کام نہیں کیا روزگاروتعلیم نہ ہونے کے برابرہے علاج کیلئے کراچی جارہے ہیں سرحدوں پراللہ کی طرف سے ملاہواروزگاروکاروباراور ساحل پر فشریز پر بھی حکمران پابندیاں لگاکر مشکلات پیدا کی جارہی ہے بلوچستان کے عوام کے تجارت کاروبار کوتحفظ دیاجائے سرحدوں پر تجارت میں آسانی وسہولت فراہم کی جائے باربارسرحدیں بند نہ کی جائے۔حق دوتحریکیں جاری رہیگی حکمرانوں کو جائز مسائل حل کرنے ہوں گے۔
صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بھی معیاری ہسپتال اوربہترین تعلیمی ادارہ نہیں۔تعلیم وصحت کے اداروں کے ڈاکٹروملازمین احتجاج پر ہیں انہیں بھی عوام کی فکر نہیں۔سول ہسپتال کوئٹہ گزشتہ تین ماہ سے ہڑتالوں کا مرکز بناہوا ہے لیکن حکومت ٹھس سے مس نہیں ہورہی جو لمحہ فکریہ ہے حکمران خواب غفلت کا شکار ہیں جب تک عوام حقوق کے حصول کیلئے خودباہر نہیں نکلیں گے۔
حکومت غفلت وکوتاہی کا شکار ہوتی رہیگی صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اورسی پیک سٹی گوادر سمیت بلوچستان کے تما م اضلاع کے عوام بنیادی ضروریات کوترس رہے ہیں۔بلوچستان کو حقوق دوتحریک کی کامیابی کی صورت میں عوام کو پانی بجلی تعلیم وصحت کی سہولیات بہت جلد میسر ہوگی صوبائی اور وفاقی حکومت صوبے کے دوردرازچھوٹے بڑے تمام شہروں کے مسائل حل کریں عوام الناس وشہریوں کومسائل کے حل کیلئے تحریک چلانا،پیدل مارچ کرنا،بھوک ہڑتال پربیٹھناحکومت کی ناکامی ہے نااہل حکمرانوں،بے حس منتخب نمائندوں اور بدعنوانی کی وجہ سے بلوچستان کے شہر کھنڈرات میں تبدیل ہوگیے ہیں بلوچستان میں کرپشن عروج پر ہونے اور احتساب نہ ہونے کی وجہ سے بڑے شہربھی دیہات بن رہے ہیں۔
بلوچستان کے معصوم عوام تمام بنیادی آئینی انسانی حقوق سے محروم ہیں بدقسمتی سے ترقیاتی کاموں دستاویزات کاغذات میں فنڈزتو ریلیز ہوتے ہیں کاغذات دستاویزات میں صوبے کے ہر شہر میں ترقیاتی کام ہورہے ہیں لیکن حقیقت میں صرف بدعنوانی ہورہی ہے اور بدقسمتی سے بدعنوانی رکھوانے کے بجائے احتساب کے اداروں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کررکھی ہے جب تک بلوچستان میں عوامی مسائل سے باخبر دین دار دیانت دار قیادت وافراد منتخب نہیں ہوگی عوامی مسائل حل ہونے کے بجائے تباہی وبربادی ہوگی جماعت اسلامی عدل وانصاف کے اسلامی حکومت کیلئے جدوجہد جاری رکھے گی عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔