|

وقتِ اشاعت :   January 30 – 2022

کوئٹہ: آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین( سی بی اے)بلوچستان کی صوبائی کابینہ،زونل اور ڈویژنل عہدیداروںکا مشترکہ اجلاس زیر صدارت صوبائی چیئرمین محمد رمضان اچکزئی منعقد ہوا۔

اجلاس میں صوبائی کابینہ کے اراکین عبدالباقی لہڑی، محمد یار علیزئی، ملک محمد آصف اعوان اور سید آغا محمد سمیت زونل اور ڈویژنل عہدیداروں نے شرکت کی۔

اجلاس کے ایجنڈے کے تمام پوائنٹس پر سحر حاصل بحث کی گئی اور آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرتے ہوئے فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں مرکزی یونین کی کال پر پورے ملک کی طرح صوبہ بلوچستان کے تمام شہروں اور کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 02 فروری کو نجکاری کے خلاف کارکنوں کی جانوں کی حفاظت ، ادارے کی ترقی ، صارفین کی سروسز میں بہتری اور کارکنوں کے تمام جائز مسائل کے حل کیلئے مظاہروں میں بھرپور شرکت کی جائے گی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یکم فروری کو پورے صوبے میں واپڈا اور اس کے گروپ آف کمپنیز کی نجکاری کے خلاف ،ادارے کے مفاد ، کرپشن اور نااہلی ختم کرنے ، صارفین کی سروسز کو بڑھانے اور کارکنوں کے تمام جائز مسائل کو حل کرنے اور االوداع نااہل چیف ایگزیکٹو الوداع کے بینرز چیف ایگزیکٹو آفس سمیت پورے صوبے کے دفاتر میں آویزاں کرنے، 05 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منانے کے ساتھ ساتھ ظلم کے شکار صوبہ بلوچستان کے پاور سیکٹر کے مزدوروں کے مسائل کے حل کیلئے پورے صوبے میں مظاہرے کرنے اور اسی طرح06 فروری بروز اتوار کو بھی مطالبات کے حق میں مظاہر ے کیے جائیں گے۔

اجلاس میں فیصلہ گیا گیا کہ تمام عہدیداران اور ممبران یونین کے آئین کے مطابق ڈسپلن کا پابندہیں اور جو عہدیدار تین اجلاسوں یا مظاہروں میں شرکت نہیں کرے گااس کا عہدہ خود بخود ختم تصورہوگا جس کے بعد اس عہدے پر نئے انتخابات کرائے جائیں گے اور اسی طرح جو ممبر مظاہروں میں شرکت نہیں کرے گا وہ یونین ممبر کے بجائے یونین ہمدرد ممبر کے کھاتے میں چلا جائے گا اور جب اس ہمدرد ممبر کو مشکلات پیش آئیں گی تو یونین بھی اس کے ساتھ ہمدری کا اظہار کرے گی

جبکہ ممبر کیلئے یونین اسی طرح کی سرگرمی دیکھائے گی جس طرح سے وہ یونین کی جدوجہد میں شریک ہو کر دکھاتے ہیں۔اجلاس میں تمام میٹر ریڈرز اور بل ڈسٹری بیوٹرز کو بتایاگیا کہ وہ شہری علاقوں میں 1500 اور دیہی علاقوں میں 800 کنکشن روزانہ کی بنیاد پر دیکھیں اور قانون کے مطابق صارفین کو بل دینے کے پابند بنیں اور کوئی بھی میٹر ریڈر بل ڈسٹری بیوٹر کام نہیں کرے گا اور نہ ہی اس کی جگہ کوئی اسسٹنٹ لائن مین ریڈنگ یا بل تقسیم کرے گا یا ڈرائیوروں کی جگہ گاڑی چلائے گا اسی طرح تمام مزدوروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ پرنٹ شدہ کمپلینٹ رجسٹر جس میں کم سے کم آپریشن ڈائریکٹر یا صوبائی یونین کے عہدیدار کا دستخط ہو اس رجسٹر پر کام کی نوعیت، ہدایت ، گاڑی اور ٹی اینڈ پی کی موجودگی میں لائن اسٹاف کام کرے گا اور اس کے ساتھ ضروری ہوگا کہ تمام دفاتر میں کمرشل پروسیجر کے مطابق ڈیوٹی روسٹر موجود ہوں اور ایک اہلکار کو اضافی کام کرنے پر ایڈیشنل الائونس ، اوورٹائم اور ہاف ڈے ویجز دینا انتظامیہ کی ذمہ داری ہوگی۔

اجلاس میں آئندہ ریفرنڈم کیلئے تیار رہنے، ادارے میں ہر قسم کی کرپشن کی روک تھام کرنے اور صارفین کی خدمات میں بہتری لانے کیلئے یونین کے ہم آواز ہو کر تمام سرکلز فروری کے مہینے میں بجلی چوری کے غیرقانونی کنکشنز اور ایف آئی آر کی تفصیل یونین کو پہنچائیں گے۔ تمام لائن سپرنٹنڈنٹس پابند ہوں گے کہ وہ سرکاری فنڈز کو وزیروں کے علاقوں میں خرچ کرنے کیلئے کیسز نہ بنائیں۔

اسی طرح تمام آر اوز میں کمرشل اسٹاف پابند ہوگا کہ وہ بوگس طریقے سے بلوں کی درستگی کو روکیں۔ آپریشن سب ڈویژن کے تمام میٹر ریڈرزاور میٹر سپروائزرز پابند ہوں گے کہ وہ جعلی طریقے سے بجلی کے یونٹس زمینداروں اور سرکاری اداروں پر نہ ڈالیں اور یہ ذمہ داری ایس ڈی اوز سے اوپر کے آفیسروں کو دی جائے۔اجلاس میں پے درپے گرڈ اسٹیشنوں بالخصوص 132KV گرڈ اسٹیشن کے دو دفعہ جلنے کی وجہ نااہل چیف ایگزیکٹو کو ٹھہرایا گیا جس کے چہیتے آفیسروں نے مال کمانے کے علاوہ گزشتہ ڈھائی سالوں میں کسی گرڈ اسٹیشن کا باقاعدہ انسپکشن نہیں کیا ہے۔

اب تو مال کمانا کمپیوٹر سنٹر کوئٹہ میں بھی شروع ہو گیا ہے جہاں پچھلے سالوں کی نسبت اس سال کروڑوں روپے سے زیادہ نرخ ٹھیکداروں کے حوالے کیے جارہے ہیں تاکہ اس شعبے میں بھی مال کمائو پالیسی جاری رہے۔اجلاس میں ڈپٹی چیف ایڈیٹر کے آفس کو کرپٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس آفس کے تمام آفیسران جہاں بھی آڈٹ کیلئے جاتے ہیں وہ لاکھوں روپے کی غیر قانونی وصولیاں کرکے ادارے کے نقصانات پر چشم پوشی سے کام لیتے ہیں اور ان کے بقول اوپر والوں کیلئے مال پہنچانا ان کی ذمہ داری ہے۔

اجلاس میں گزشتہ سال شہید اور انتظامی آفیسروں کی طرف سے قتل کیے جانے والے پانچ اہلکاروں کے ذمہ داروں کو کوئی سزا نہ دینا کیسکو کے موجودہ عارضی چیف کوان واقعات کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ 19 ستمبر 2019 کو جب موجودہ عارضی چیف ایگزیکٹو آفیسر کیسکو میں آئے تو اس وقت صارفین کے ذمے کیسکو کے واجب الادا بل 262 ارب روپے تھے جو کہ اب 435 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیںاور چوری کے کنکشنز ہزاروں کی تعداد میں چل رہے تھے جو کہ اب منظور شدہ کنکشن ساڑھے چھ لاکھ سے زیادہ تعداد میں پورے بلوچستان میں چل رہے ہیں۔

غریب صارف کے ایک ماہ کے بل کی عدم ادائیگی پر اس کی بجلی کاٹ دی جاتی ہے جبکہ گورنمنٹ زرعی صارفین اور طاقتور بجلی چوروں سے کوئی باز پرس نہیں ہو رہی ہے اس لئے کیسکو بینک کرپٹ ہو چکی ہیں اور اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ عارضی چیف ایگزیکٹوآفیسر اور ان کے من پسندچند کرپٹ آفیسروں پر عائد ہوتی ہے۔

موجودہ عارضی چیف ایگزیکٹو آفیسرنے میٹر ک اور ایف ایس سی کوئٹہ سے کرکے بی ای انجینئرنگ لاہور سے کی ہے اور فیصل آباد سے کوئٹہ تعیناتی پر ڈسلوکیشن پالیسی کے نام پر تین تنخواہیں اس مفلوج کیسکو کمپنی سے لیتے رہے ہیں۔ اب جبکہ لاہو ر ہائی کورٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام کمپنیوں کے اعلیٰ آفیسران اپنی اپنی کمپنیوں میں کام کریں تو موجودہ قائم مقام چیف ایگزیکٹو آفیسر عہدے سے چمٹ گئے ہیں اور وہ گھر جانے کی بجائے توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

اس لئے وہ کیسکو کے مفادات کی پرواہ کیے بغیر اپنے اور اپنے چند من پسند آفیسروں کے مفادات کو ترجیح دے کر قتل کیے جانے والے مزدوروں، معذوروں اور شہید اہلکاروں کی کمپن سیشن سمیت ان کے جائز مسائل میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔ اس لیے یونین نے فیصلہ کیا ہے کہ 09 اپریل 2022کو عارضی چیف ایگزیکٹو کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ تک بلوچستان کے تمام دفاتر میں مظاہرے اور دھرنے دیے جائیں گے اور حکومت سے مطالبہ کیا جائے گاکہ وہ عارضی چیف ایگزیکٹو کی کرپشن کی نیب اور ایف آئی اے سے تحقیقات کروائے اور انہیں ملازمت سے برطرف کرکے صوبہ بلوچستان سے سات ایڈیشنل چیف انجینئر میں سے کسی ایک کو قائم مقام چیف ایگزیکٹو آفیسر کا چارج دیا جائے تاکہ ادارے میں بد انتظامی، نااہلیت ، کرپشن کا خاتمہ، بجلی چوری کوروکنے، کارکنوں کی جان کی حفاظت کرنے، قتل کیے جانے والے اور معذور کارکنوں کے کمپن سیشن کی ادائیگی اور تمام کارکنوں کے جائز مسائل کو حل کیا جاسکے۔