اسلام آباد: بلوچ طلباء کونسل کے زیر اہتمام قائداعظم یونیورسٹی کے طالب علم حفیظ بلوچ کے خلاف جھوٹے ایف آر کے درج ہونے اور تعلیمی اداروں میں بلوچ طلبہ کومختلف طریقوں سے حراساں کرنے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
ہفتہ کے روز نیشنل پریس کلب کے باہر بلوچ طلباء کونسل کی جانب سے قائد اعظم نیورسٹی کے طالب علم حفیظ بلوچ کے خلاف بلوچستان کے ضلع نصیرآباد میں سی ٹی ڈی کی جانب سے جھوٹے ایف آئی آر درج کرنے اور تعلیمی اداروں میں بلوچ طلبہ کی پروفائنگ کرکے مختلف طریقوں سے انھیں حراساں کرنے کے خلاف احتجاجی مظاہر ہ کیا گیا ۔ مظاہر ے سے بلوچ طلبہ رہنماؤں نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں کہا کہ بلوچ طلبہ کو تحفظ دیا جائے انھیں مذید حراساں نہ کیا جائے اور انھیں تعلیم حاصل کرنے دیاجائے۔
انہوں نے کہا کہ حفیظ بلوچ جسے پہلے لاپتہ کیاگیا تھا اب ان کے خلاف سی ٹی ڈی نصیر آباد کی جانب سے دہشت گردی اور بارودی مواد رکھنے کے دفعات کے تحت جھوٹے ایف آئی آر درج کئے گئے جس کی وجہ سے انھیں جیل میں رکھا گیا اور ان کا تعلیمی سلسلہ متاثر ہورہاہے لہذہ ان کے خلاف ایف آئی آر ختم کئے جائیں۔مظاہر ے میں شریک انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی ایمان حاضر مزاری ایڈووکیٹ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ8 فروری حفیظ بلوچ کو خضدار سے جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا جس کے بعد حفیظ بلوچ کی جبری گمشدگی کا ایف آئی آر بھی درج کیا گیا۔
اس کے بعد16مارچ کو جعفرآباد پولیس کی جانب ایک ایف آر درج کی جاتی ہے کہ جس میں دہشت گردی اور بارودی مواد ساتھ رکھنے کی دفعات شامل کی جاتیں ہیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ 8فروری سے 16مارچ تک حفیظ بلوچ کس ریاستی ادارے کے پاس تھا۔انہوں نے کہا کہ دسمبر 2021کو کچھ سرکاری لوگ قائداعظم یونیورسٹی پر آتے ہیں اور طلبہ کی پروفائلنگ کر تے ہیں اور ا س کے بعد 21مارچ کوایک واقعہ ہوا ہے اور 25مارچ کو اسلام آباد کے باہر بلوچ طلبہ کو حراساں کیا گیا۔ان کے ہاسٹلز میں کالی ویگو آ تے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ بلوچ طلبہ گھر جاتے ہیں تو انھیں وہاں سے غائب کیا جاتاہے۔انہوں نے کہا کہ لاپتہ ہونے کے ڈر سے بہت سارے طالب علم ایک سال سے زائد عرصہ سے گھر نہیں جاسکے ہیں۔