کراچی : پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ملک میں الیکشن کے مطالبات کی فضا چل رہی ہے میں کہنا چاہتا ہوں جو بھی آئے گا اسے مسائل حل کرنے ہیں تو ہمیں کرنے دیں، ہم نے اندازہ لگا کر درخت کو دوبارہ پھل دار کرنا ہے، ہم ہر اقدام سوچ سمجھ کر کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ کب کہا کہ ہمیں الیکشن سے ڈر ہے ، ہمارا تو گیم پلان انتخابی و نیب اصلاحات لانا ہے،ہم نے سلیکٹڈ کو سیاسی طاقتوں کے ذریعے مل کر ہٹایا، میں نے پہلے دن کہا تھا کہ یہ ملک نہیں چلاسکیں گے، ان کے اپنے ہی دوستوں نے ان کو چھوڑ دیا،ان کے اپنے لوگوں نے انہوں نے چھوڑا کیونکہ انہوں نے اپنے لوگوں کے سیاسی وعدے پورے نہیں کیے۔ آج تک میں کہتا آیا ہوں کہ الیکشن کروائیں، ہم نے حکومت بنالی ہے وہ چاہ رہے ہیں کہ الیکشن کروائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب کہتا تھا یہ دھاندلی کی حکومت ہے الیکشن کروائیں تو کوئی نہیں سنتا تھا۔ سلیکٹڈ کو پارلیمان میں کہا تھا کہ اکنامک چارٹر بنالو؛ ان کو اکنامک چارٹر کی تجویز دی لیکن سلیکٹڈ کو سمجھ نہیں آیا۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انکے ہمراہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور ارکان سندھ کابینہ بھی موجود تھے۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق صدر پاکستان نے کہا کہ نواز شریف سے گزشتہ رات بات کی انہیں سمجھایا، آج جو کچھ بھی کہہ رہا ہوں وہ میاں صاحب کی مشاورت سے کہہ رہا ہوں، رات میاں صاحب سے بات کی جیسے ہی الیکشن اصلاحات ہوں الیکشن کرائیں۔ سابق حکومت سے متعلق آصف زرداری کا کہنا تھا کہ میری نظر میں پاکستان اگر کوئی چلاسکتا ہے تو ہم چلاسکتے ہیں، یہ نہیں چلا سکتا۔ وزیراعظم بنانے کے لیے ہم نے پی ٹی آئی کا کوئی ووٹ نہیں لیا۔ سابق صدر کا کہنا تھا کہ ہم نے کب کہا کہ ہم الیکشن نہیں کروائیں گے، انتخابی اصلاحات کے بعد الیکشن کی طرف جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ کو ہم نے مل کر ہٹایا ہے، مجھے لوگوں کے بند چولہے جلانے ہیں۔ عمران خان کی جانب سے نئے انتخابات کے مطالبے پر آصف علی زرداری نے کہا کہ حکومت میں آکر انھوں نے پچھلے 4 سال کیا کیا؟ الیکشن میں جا کر یہ کیا کرے گا؟ اپنے چار سال میں کیا کام کیا؟ الیکشن جلدی کروا کر یہ کیا کر لے گا؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی نئی حکومت آئی ہے حالات کنٹرول کرنے میں تھوڑا وقت لگتا ہے۔ مہنگائی سے متعلق انھوں نے کہا کہ پیڑول کی قیمتیں ہم نہیں بڑھانا چاہتے؛ پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو چکن ، انڈے بھی مہنگے ہوجاتے ہیں؛ مجھے تو لوگوں کے بجھے ہوئے چولہے بھی جلانے ہیں؛ اسٹاک مارکیٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آپ کا اسٹاک ایکسچینج اب کھڑا ہو گیا ہے، پرویز مشرف کے دور کے بعد بھی ہم نے اسٹاک ایکسچینج کو اٹھایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جب تک آئی ایم ایف کا پروگرام نہیں آجاتا ہمیں مشکلات ہوں گی۔ میں پاکستان کھپے کا نعرنہ نہ لگایا ہوتا تو آج صورتحال یہ نہ ہوتی، ہم پاکستان کو مضبوظ کریں گے، جمہوریت میں ہار اور جیت ہوتی رہتی ہے، شہباز شریف ملک سے باہر گئے ہیں آئیں گے تو دوبارہ ملکر بیٹھیں گے۔ ہم پرویز مشرف کو ڈکٹیٹر کہتے تھے مگر اس کے گھر پر کبھی بھی حملہ نہیں کیا اور میں اس صورت میں پاکستان سے باہر گیا جب ای سی ایل سے میرا نام ہٹایا گیا۔ بیورو کریسی اور ملک کو تباہ کردیاگیا، ملکی معاملات پر پوری طرح سے ا?گاہ ہیں۔سابق صدر نے کہا کہ 1947 سے آج تک ہمارے خلاف سازش ہوتی رہی ہے اور عمران خان کون ہوتا ہے کسی کو میر جعفر اور میر صادق کا خطاب دے۔
بی بی کو شہید کرکے پاکستان کے خلاف سازش کی گئی۔ کراچی سے مسائل سے متعلق انھوں نے کہا کہ کراچی میں کام ہوا ہے ،سندھ میں بھی کررہے ہیں؛ اگر ہم جگہ چھوڑیں گے تو کوئی اور آجائے گا۔ تاجر برادری ساتھ بیٹھے ان سے مشاورت کرنا چاہتا ہوں؛ عمران خان کہتا ہے میں آلو ٹماٹر کے لیے نہیں آیا مگر میں تو اسی کے لیے آیا ہوں؛ اس وقت سسٹم سے ہٹ حل تلاش کرنے ضرورت ہے؛ پاور سیکٹر کو پرائیوٹائز کرنا ہے یہ آئوٹ دی باکس کام ہے۔ آج 50 ہزار روپے تنخواہ والے کو بھی مسائل کا سامنا ہے؛ پاور پلانٹس نہیں انفرادی طورپر سولر پلانٹس کے لیے قرضے دیں گے؛ اوور سیز پاکستانیوں کو ملک کے زمینی حقائق نہیں پتہ، مسائل کا حل ہم نے خود نکالنا ہے۔
ملک میں پانی کی قلت سے متعلق انھوں نے کہا کہ پانی کے مسئلے پر کہتا ہوں الحمد اللہ کچھ گلیشئر پگھلے ہیں، پانی آرہا ہے ؛ میں سندھ میں اپنی اور غریبوں کی فصلوں کو دیکھ کر رو رہا تھا؛ پانی ایک مسئلہ ہے دوستوں کو کام پر لگائیں گے۔ دہشتگردی سے متعلق سوال پر جواب دیتے ہوئے انھوں کہا کہ یونیورسٹی میں جس بیٹی نے چینی شہریوں پر حملہ کیا اس کا بہت صدمہ ہوا؛ اس بیٹی کا برین واش کیاگیا، صدمہ ہوا کہ وہ اس نہج پر چلی گئی؛ چین کو بطور دوست ملک گرم پانیوں میں ا?نے کی اجازت دی؛ گوادر ہم نے دیا ہے ہم سے بات کریں ، ہم نے پاکستان کے لیے دیا ہے؛ چینی لوگ زبان پڑھا رہے تھے، اتنی ناراضی؟ ملک کے صدر عارف علوی سے متعلق انھوں بتایا کہ علوی صاحب ڈینٹسٹ ہیں ، ان کو کیا پتا سیاست کیا ہے؛ علوی صاحب سیاست کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔
میری تجویز ہے کہ بیوروکریسی نیب سے الگ ہو؛ سلیکٹڈ کو پارلیمان میں کہا تھا کہ اکنامک چارٹر بنالو؛ ان کو اکنامک چارٹر کی تجویز دی لیکن سلیکٹڈ کو سمجھ نہیں ا?یا؛ نیب میں غیر سیاسی افسران رکھیں گے؛ ہمیں بیوروکریسی کو بحال کرنا ہے؛جو چیزیں پرائیویٹائز ہوسکتی ہیں اس پر بات کریں۔امریکی مراسلے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہاکہ میں نے کوئی مراسلہ نہیں پڑھا؛ انہوں نے مراسلہ خود بنایا ہے؛ عام طور پر امریکی سفیر ایسی زبان استعمال نہیں کرتے؛ مراسلہ ہوگا لیکن ممکنہ طور پر یہ ریاست کی طرف سے نہیں آیا؛ بائیڈن میرا دوست ہے ایسی بات ہوتی تو وہ مجھے فون کرتا؛ اگر ان کے پاس مراسلے سے متعلق کوئی ثبوت ہیں تو پیش کریں ؛ سابق حکومت کی مدت پوری نہیں ہورہی تھی سسک رہی تھی؛ کئی ایسے ملک ہیں ، جہاں معاشی حالات ابتر ہیں ، ہمیں بھی محتاط رہنا ہوگا۔
ڈالر کی قیمت میں اضافہ سے متعلق انھوں نے کہا کہ میرے زمانے میں بھی ڈالر اوپر نیچے جاتارہا ، لیکن 60 سے اوپر نہیں جانے دیا۔ایم کیو ایم سے متعلق سوال پر کہا کہ کراچی ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہے، ہم کراچی کو فنڈز دیتے رہے ہیں؛ ایم کیو ایم کو بھی صحیح راستے پر لگا کر کام لینا ہے۔ سابق صدر نے کہا کہ فوج غیر سیاسی ہوتی ہے تو جنرل باجوہ کو سیلوٹ کرنا چاہیے یا پھر لڑنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کی ا?بادی 20 کروڑ نہیں مانتا، میرے نزدیک ملک کی آبادی 30 کروڑ ہے اور انہی میں ہمیں پاکستان کو بنانا ہے۔