اسلام آباد : سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور نے سیکرٹری الیکشن کمیشن کو نئی مردم شماری ہونے تک 2017 کی مردم شماری کے مطابق صوبہ بلوچستان کی 2018 کی حد بندی برقرار رکھنے کی سفارش کرتے ہوئے ادارہ شمارایات کو سی سی آئی کے فیصلے کی رشنی میں 31 دسمبر 2022 تک نئی مردم شماری کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
جبکہ حکام ادارہ شماریات نے کہا ہے کہ نئی مردم شماری کیلئے 31 دسمبر 2022 کی ڈیڈلائن پوری کرنا مشکل لگتا ہے جس پرر فاروق ایچ نائیک نے کہاہے کہ جب تک نئی مردم شماری نہیں ہوتی اس وقت تک نئے انتخابات کرانا مشکل ہوگا،قانون کے مطابق 2017 کی مردم شماری پر 2018 کے انتخابات ہو چکے ہیں اور پروویزو اب ختم ہوچکا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر تاج حیدر کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا- سینیٹرز فاروق حامد نائیک، ثانیہ نشتر، علی ظفر، عابدہ محمد عظیم، پروفیسر ساجد میر، ولیداقبال نے اجلاس میں شرکت کی-سینیٹر دنیش کمار بطور موور اجلاس میں شریک ہوئے جبکہ سینیٹرز پرنس احمد عمر احمدزئی، ثمینہ ممتاز زہری، محمد اکرم، انوارالحق کاکڑ، نصیب اللّہ بازئی ، ایم این اے محمد ہاشم نوٹ زئی اور ایم این اے احسان اللّہ رِکی خصوصی طور پر اجلاس میں شریک ہوئے۔
وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال، سیکریٹری وزارت پارلیمانی امور، سیکریٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان، اور ادارہ شماریات کے حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی-سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 09 جون 2022 کو سینیٹ کے اجلاس میں سینیٹر دانش کمار کی طرف سے بلوچستان کی نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملے پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز اور ایم این ایز نے بلوچستان کی نئی حلقہ بندیوں پر اعتراضات اٹھائے- ان کا موقف تھا کہ نئی حلقہ بندیوں کی وجہ سے حلقوں میں کافی تضادات ہیں-سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ اکثر سیاست دان اثر رسوخ کا استعمال کر کے بغیر کسی وجہ کے نئی حلقہ بندیاں کراتے ہیں-الیکشن میں کسی کی ہار جیت حلقہ بندیوں سے منسلک ہوتی ہے۔
الیکشن کے نتائج پر اسکا کا کافی اثر ہوتا ہے-سیکریٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بتایا کہ 30 جون 2022 تک حلقہ بندیوں کے حوالے سے اعتراضات الیکشن کمیشن کو بھیجے جا سکتے ہیں-انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن، بلوچستان سے تعلق رکھنے والے تمام ارکان پارلیمنٹ کے حلقہ بندیوں سے متعلق اعتراضات کو دور کرنے کی پوری کوشش کرے گا-معاملے پر بحث کے بعد کمیٹی نے متفقہ طور پرتجویز دی کہ جب تک نئی مردم شماری نہیں ہوتی اس وقت تک بلوچستان کی 2017 مردم شماری کے مطابق ، 2018 کی حلقہ بندی برقرار رکھی جائے۔
ادارہ شماریات کے حکام نے کمیٹی کو ساتویں مردم شماری سے متعلق ادارے کی تیاری اور طریقہ کار پر بریفنگ دی-حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 18 جولائی کو 500 بلاکس میں پائلٹ پروگرام شروع کر رہے ہیں جو کہ تین دن تک جاری رہے گا-پائلٹ پروگرام کے نتائج کو پھر کمیٹی دیکھے گی-انہوں نے مزید کہا کہ چھٹی مردم شماری اگر متنازعہ ہے تو اس کی ایک وجہ مانیٹرنگ کے عمل میں اسٹیک ہولڈرز کا شامل نا ہونا ہے-چھٹی مردم شماری میں تصدیقی عمل نادرا سے کرایا گیا۔
جو کہ قانون کی خلاف ورزی تھی-ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈیجیٹل مردم شماری کیلئے ٹیبلیٹس، ہارڈوئیر اور سپرویڑن نادرا دے گی-چیئرمین کمیٹی نے سوال کیا کہ کیا سی سی آئی کے فیصلے کی روشنی میں 31 دسمبر 2022 تک مردم شماری کا عمل مکمل ہوجائیگا۔
جس پر ادارہ شماریات کے حکام نے بتایا کہ 31 دسمبر 2022 تک مردم شماری مکمل کرنا انتہائی مشکل ہے- چیئرمین کمیٹی نے ڈیجیٹل مردم شماری کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا اور حکام کو ہدایت دی کہ سی سی آئی کے فیصلے کی روشنی میں 31 دسمبر 2022 کو مردم شماری کا عمل مکمل کریں۔جس کے بعد چیئرمین کمیٹی نے اجلاس موخر کردیا۔