|

وقتِ اشاعت :   June 24 – 2022

اسلام آباد: پاکستان میں میڈیا سے وابستہ دانشوروں ، صحافیوں، ماہرین اقتصادیات اور پاپولیشن کونسل نے ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شرح آبادی کو کنٹرول کرنے کے لئے بجٹ میں غیر معمولی اضافے ، ٹھوس اقدامات اور جامع منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا ہے، جمعہ کو اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ملک گیر میڈیا مشاورتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے ورلڈ بنک کے سابق ماہر اقتصادیات ڈاکٹر حنیف مختیار نے کہا کہ پاکستان میں آبادی کے غیر معمولی اضافے کے اثرات براہ راست ملکی معیشت پر پڑ رہے ہیں اور معیشت شدید دباو کا شکار ہے ۔

پاکستان میں 85فیصد پیداواری فارمز پانچ ایکڑ سے بھی کم اراضی پر مشتمل ہیں جبکہ عالمی سطح پر کم از کم 5۔7ایکڑ رقبے کی ضرورت ہوتی ہے زرعی پیداوار میں مسلسل کمی آررہی ہے اور ایک زر مبادلہ کا ایک بڑا حصہ برآمدات پر خرچ کیا جاررہا ہے جبکہ شرح نمو میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے جو کسی بھی طرح نیک شگون نہیں مشاورتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے پاپولیشن کونسل کی پروجیکٹ ڈائریکٹر سمیعہ علی نے بتایا کہ 1960کی دہائی میں جنوب مشرقی ایشائی ممالک سنگاپور ،

تھائی لینڈ، جنوبی کوریا ،ملائیشیا اور پاکستان میں فی عورت چھ بچوں کی پیدائش کا تناسب تھا 1980کی دہائی تک سنگاپور اور جنوبی کوریا نے بالترتیب 10اور 16سالوں میں شرح آبادی نصف حد تک کم کردی ، پاکستان میں 1960میں شرح آبادی 6۔6تھی جو کہ موجودہ شرح 6۔3تک لانے کے لئے 60سال لگے انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل میں صحت، تعلیم ، خوراک سمیت بنیادی ضروریات کی کمی سنگین مسائل ہیں کوریا اور تھائی لینڈ میں نو مولود بچوں کی شرح اموات کا تناسب ایک ہزار بچوں میں دس ہے ۔

جبکہ پاکستان میں یہ شرح ایک ہزار بچوں پر 62ہے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ایشائی ممالک سنگا پور ، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ اور ملائشیا میں شرح خواندگی 90فیصد سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ پاکستان میں یہ شرح ابتک 16فیصد ہے اور 15سال و اس سے بالائی عمر کی آبادی کا ایک تہائی حصہ ناخوادندہ ہے متذکرہ ممالک میں اوسط عمر 75سال جبکہ پاکستان میں 66سال کے لگ بھگ ہے ۔

سمیعہ علی نے کہا کہ افرادی قوت میں خواتین کی شرکت گھریلو معاملات بشمول خاندانی منصوبہ بندی، تعلیم صحت اور دیکھ بھال کے امور میں صنفی امتیاز کو ختم کرتی ہے، مشاورتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے پاپولیشن کونسل کے سئنیر ڈائریکٹر پروگرامز علی میر نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان تین ممالک میں شامل ہے ۔

جہاں آبی وسائل تیزی سے سکڑ رہے ہیں اور زرعی اراضیات معدوم ہوررہی ہیں جو کہ ایک تشویشناک پہلو ہے مشاورتی نشست کے شرکا نے بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں میڈیا کے کردار پر سیر حاصل بحث کی اور سفارش کی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بجٹ میں آبادی کی روک تھام کے لئے غیر معمولی وسائل مختص کریں، عوامی خدمات کے لئے مالی اعانت میں اضافہ کیا جائے، ملک میں آبادی کی روک تھام کے لئے جاری پروگرامز کو بہتر بنایا جائے اور اس ضمن میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ متعارف کروائی جائے ۔

مشاورتی نشست میں ملک بھر سے شریک میڈیا کے نمائندوں نے اس بات پر اتفاق کا اظہار کیا کہ پاکستان کی قومی سلامتی انسانی ترقی سے منسوب ہے آبادی کی متواتر بڑھتی شرح سے نمٹے بغیر انسانی ترقی کے اہداف کا حصول ممکن نہیں، شرکا نے کہا کہ مواصلاتی ٹیکنالوجی میں وسیع تکنیکی ترقی الیکٹرانک آلات اور الیکٹرانک کامرس کے ذریعے ضائع ہونے والے وقت کے نقصان کا ازالہ کیا جاسکتا ہے ۔