|

وقتِ اشاعت :   July 28 – 2022

قارئین! ہولناک “ویرانے” اور اذیت ناک “سناٹے” صرف جنگلوں قبرستانوں یا بیابانوں میں نہیں بلکہ “ریاست” کے اندر بھی ہوتے ہیں۔آج سرائیکی وسیب کے علاقے بالکل اسی طرح ویران اور ہولناک سناٹوں کا دکھ بھرا منظر پیش کر رہے ہیں جسے ہر جیتا جاگتا انسان دیکھ کر پریشانی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔کوہ سلیمان کے دامن سے نکلنے والی رود کوہی کے سیلابی ریلوں نے روجھان سے لے کر ڈیرہ اسماعیل خان تک تباہی مچا دی۔ہزاروں بستیاں زیرآب آ گئیں،کئی گھر زمین دوز ہو گئے، لاکھوں ایکڑ پر مشتمل کھڑی فصلیں برباد ہو گئیں۔لوگوں کی اشیاء خوردونوش،سال بھر کی جمع پونجی ،اوڑھنا بچھونا، جمع شدہ اجناس ،مال و متاع سب سیلابی ریلوں کی نذر ہو گئے۔

آہ و بکا کرتے ،سسکتے ،بلکتے انسانوں سمیت درجنوں مویشی ہلاک ہو گئے۔کچھ گھنٹے قبل جہاں ایک خاندان کا برسوں کی محنت سے سنوارا گیا اونچا سائبان تھا کچھ ہی گھنٹوں بعد وہاں پانی اور مٹی کے گارے کے سوا کچھ نہیں تھا۔کوہ سلیمان کی پسماندہ یونین کونسل سے تعلق رکھنے والے سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار جنہیں عمران خان نے اس لیے نامزد کیا تھا کہ وہ ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور غریب لوگوں کے مسائل کو قریب سے جانتے ہیں وہ بھی سیلاب میں ڈوبے اپنے حلقہ انتخاب میں نہ آئے اور نہ اپنے علاقے کے سیلابی متاثرین کی کوئی امداد کی۔سردار اویس احمد خان لغاری جو چند دن پہلے اپنی صوبائی وزرات سے صرف اس لیے مستعفی ہو کر یہاں آئے تھے کہ وہ حلقہ پی پی 288 میں ن لیگ کے سردار عبد القادر خان کھوسہ کی الیکشن کمپین چلا سکیں۔

اب اسی حلقے کی کئی بستیوں کو رودکوہی کے سیلابی پانی نے صفحہ ہستی سے مٹا دیا لیکن وہ یہاں حالات کا جائزہ لینے ، متاثرین کی مدد کرنے ان کے پاس نہ آسکے۔دوسری طرف تحریک انصاف کی سابق وفاقی وزیر محکمہ موسمیات اور حلقہ این اے 191 کی ایم این اے زرتاج گل جس کو یہاں کے لوگوں نے سرداروں کے مقابلے میں فتح سے ہمکنار کروایا تھا وہ سیلاب متاثرین تک پہنچنے اور ان کی مدد کرنے کے علاوہ اپنے ساتھیوں سمیت ڈیرہ غازی خان کلمہ چوک پر کھڑی ہوکر پرویز الہٰی کے وزیراعلیٰ پنجاب بننے پر جشن منا رہی تھیں۔

جامپور کے حلقہ پی پی 293 سے ایم پی اے بن کر تین سال تک تحریک انصاف کی حکومت میں وزیر آب پاشی رہنے والے سردار محسن خان لغاری جس کے حلقہ انتخاب کا ساٹھ فیصد علاقہ رود کوہی کے پانی سے بالکل تباہ ہو چکا ہے وہ لاہور میں بیٹھ کر اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔یقینا ان ابن الوقت سیاستدانوں کی طرف سے سرائیکی وسیب کے غریب لوگوں کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ رسید کیے جا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر گردش کرتی ایک الم ناک تصویر نے میرے دل کو اذیت میں مبتلا کر دیا جب لاہور اور اسلام آباد کی ہمہ قسمی اشرافیہ سپریم کورٹ کے باہر کھڑی ہو کر پنجاب کے تخت کے لیے دست وگریباں تھی وہاں سرائیکی وسیب کے علاقے کا ایک پانچ سالہ معصوم بچہ سیلاب کی لہروں کے ساتھ اپنے ننھے منے ہاتھ پاؤں سے لڑ کر اپنی جان بچانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔

آخر کار وہ بچہ پانی کی تند و تیز لہروں میں بہہ کر ابدی نیند سو گیا لیکن لاہور اور اسلام آباد کے ایوانوں میں بیٹھے وقت کے حکمرانوں کی آنکھیں نہ کھل سکیں اور نہ پاکستان کا میڈیا ان کی آنکھیں کھول سکا۔اکاڑہ حویلی لکھا میں شادی کرنے والی دعا زہرا کے مسئلے کو پاکستانی میڈیا نے قومی مسئلہ بنا کر پیش کرتا رہا جبکہ ڈیرہ غازی خان ،راجن پور،تونسہ شریف،روجھان،جامپور،داجل،لنڈی سیدان، درخواست جمال خان ،چوٹی زیریں کے لاکھوں لوگوں کی تباہی میڈیا کے لیے شاید مسئلہ ہی نہیں ہے۔این ڈی ایم اے کے کرتا دھرتا سیاسی نمائندے، مقامی تمندار،مقامی انتظامیہ و صوبائی اور وفاقی حکومت ،ہر سال دو فٹ کے پانی میں کشتیاں چلانے انتظامی والے ادارے ،نام نہاد تنظیموں کی سرگرمیاں محض زبانی جمع خرچ تک محدود ہیں۔

ڈپٹی کمشنر راجن پور کے مطابق رودکوہی سیلابی سے 75 مواضعات ڈوب گئے۔سیلابی پانی سے 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد رقبہ متاثر ہوا۔30 ہزار ایکٹر پر کاشت فصلات سیلابی پانی کی نظر ہو گئیں۔ 20 ہزار سے زائد لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے۔دو ہزار دس کے طوفانی سیلاب نے سرائیکی وسیب کو اس طرح تباہ برباد کیا تھا لیکن آج بارہ سال گزرنے کے باوجود پاکستان کے حکمران کوہ سلیمان کے ندی نالوں سے آنے والے پانی کو جمع کرنے کے لیے کوئی ایسا ڈیم نہ بنا سکے جہاں رودکوہی کے بارشی پانی کو جمع کیا جا سکے اور بوقت ضرورت اس پانی کو استعمال میں لایا جاسکے۔ اس سے بڑی بے حسی اور کیا ہو گی۔

حال ہی میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ڈیرہ غازی خان سے ڈیرہ اسماعیل خان کے درمیان پل قمبر،چوکی والااور بستی احمدانی سے 25کلومیٹر کے فاصلے پر کوہ سلیمان کے پہاڑوں پر دس ارب کی لاگت سے جو سوڑا ڈیم تعمیر کروایا تھا وہ ٹوٹ گیا۔واضح رہے کہ مذکورہ ڈیم حال ہی میں تعمیر کیا گیا تھا جس میں اس علاقے میں بارش کے دنوں میں چلنے والی رودکوہیوں کا پانی جمع کرکے ایک طرف تو اسے ضرورت کے تحت استعمال میں لایا جانا تھا تو دوسری طرف رودکوہی کے پانی سے ہونے والی تباہی سے بچانا تھا، تاہم اب یہ ٹو ٹ گیا ہے جس سے پیدا ہونے والی شدید طغیانی نے علاقے میں تباہی پھیلا دی۔ انڈس ہائی وے سمیت متعدد دیہات تیز پانی کی لپیٹ میں آگئے ،پتھر کو کریش کر کے بجری بنانے اور جپسم کے پلانٹس شدید متاثر ہوئے ہیں۔

ڈیم سے نکلنے والے ریلے نے 25کلومیٹر کا فاصلہ تیزی سے طے کیا اور راستے میں آنے والی آبادیوں، سڑکوں اور فصلوں کو ملیا میٹ کردیا۔ڈیم کے ٹوٹنے کی تحقیقات کرائی جائیں کہ اس میں گنجائش سے زیادہ پانی بھر اگیا پھر نکاسی میں دیر ہوئی۔تعمیر، ڈیزائن اور صلاحیت کے بارے میں تکنیکی رپورٹ بہت ضروری ہے تاکہ اس علاقے میں پہلی مرتبہ تعمیر ہوئے ایسے ڈیم کی بربادی کے بارے میں مکمل آگاہی اور ذمہ داروں کے خلاف بلا امتیاز قانونی کارروائی ہوسکے۔حکومت وقت کو چاہیے کہ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے پہاڑی سلسلے میں ایک ڈیم بنائے جہاں رودکوہی کے پانی کو جمع کرکے استعمال میں لایا جائے اور رودکوہی کا پانی جو سیلاب کی صورتحال اختیار کرکے لاکھوں ایکڑ پر مشتمل فصلوں کو نقصان پہنچاتا ہے اس نقصان سے بچا جاسکے۔

یہاں کے منتخب مقامی نمائندگان کو چاہیے کہ وہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے لوگوں کے نقصان کے ازالے کا مطالبہ کریں فوراً امدادی ٹیمیں وہاں روانہ کرکے ان کے لیے راشن پانی کا انتظامات کروائے جائیں۔ ان کے بجلی کے بل ،زرعی قرضے، آبیانے معاف کروائے جائیں۔ان کے گھروں کی تعمیرات کروائی جائیں اور ان کی مالی ا مداد کی جائے ۔