کراچی : بلوچستان یونیورسٹی میں طالب علموں کو سٹال لگانے کی اجازت نہ دینے پر کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل اور پروگریسو الائینس کے کنوینر امداد قاضی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی ادارے خصوصاً جامعات اور اعلیٰ تعلیمی ادارے طلباء و طالبات کیلیے نہ صرف تعلیم و تربیت کی سہولتیں اور ماحول مہیا کرنے میں بنیادی اور اہم کردار ادا کرتے ہیں، بلکہ طالب علم برادری کو معاشرتی، معاشی اور سیاسی شعور دینے کیلیے نرسری کا کام بھی دیتے ہیں۔
لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے اہم تعلیمی مدارس کو تنگ نظری، تعصب اور پسند نا پسند کی آماجگاہ بنانے، حکمران طبقے اور دیگر طاقتور ریاستی اداروں کی مداخلت اور منشاء کے مطابق جی حضوری کی تعلیم دینے کے لیے استعمال کئے جا رہے ہیں۔امداد قاضی نے بلوچستان یونیورسٹی کے طلباء کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام رکاوٹوں کے باوجود طلباء نے جس طرح احتجاجاً سڑک پر بک سٹال لگا کر پْر عزم ہونے کا ثبوت دیا ہے۔
اس سے پورے ملک کے باشعور انسانوں کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں۔ جبکہ ذمہ دار انتظامیہ اور حکمرانوں کی ذہینت بھی نہ صرف بلوچستان کے نوجوانوں اور عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہے، بلکہ ملک بھر کے عوام اور نوجوانوں کے لیے باعث حیرت بنی ہوئی ہے۔ امداد قاضی نے حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اور خاص طور پر یونیورسٹی میں سرکاری مداخلت خصوصاً سرکاری اداروں کی مداخلت بند کی جائے۔ طالب علموں کو بغیر تفریق کے تعلیم اور تربیت حاصل کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔