|

وقتِ اشاعت :   August 20 – 2022

اسلام آباد : وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی آغا حسن بلوچ کی زیر صدارت وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے بورڈ آف گورنرز کا چوتھا اجلاس جمعہ کو یہاں ہوا۔ بورڈ آف گورنرز نے صوبائی ہیڈ کوارٹرز کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں پاکستان حلال اتھارٹی (پی ایچ اے) کے علاقائی دفاتر کے قیام کی منظوری دی۔ بورڈ آف گورنرز نے ملک کی تمام بڑی بندرگاہوں کراچی پورٹ ٹرسٹ ، پورٹ قاسم اتھارٹی اور گوادر پورٹ اتھارٹی بلوچستان میں بھی پاکستان حلال اتھارٹی کے دفاتر کھولنے کی بھی منظوری دی۔

وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بورڈ آف گورنرز نے این ٹی ایس کے ذریعے مختص صوبائی کوٹہ پر بھرتی کے عمل کی بھی اجازت دی۔ وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ کی ہدایت پر پی ایچ اے نے صارفین اور کمپنیوں سے فوری رابطے کے لیے ٹول فری نمبر کی سہولت بھی دی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ مطلوبہ معلومات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ یہ ٹول فری نمبر صارفین کی شکایات کے ازالے میں معاون ثابت ہوگا۔

حکومت پاکستان نے پی ایچ اے کے کاروباری قوانین اور سرٹیفیکیشن مارکس ریگولیشن کی بھی منظوری دی ہے جو ایک سنگ میل ہے۔ پی ایچ اے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے انتظامی کنٹرول کے تحت پہلی تنظیم ہے جس نے کاروباری قواعد وضع کیے ہیں۔ کاروباری قوانین کی منظوری کے بعد پی ایچ اے حلال اشورینس کے نشان کے طور پر واحد پاکستان حلال لوگو کو نافذ کرکے بین الاقوامی طریقوں کے مطابق حلال مصنوعات اور خدمات کو ریگولیٹ کرسکتا ہے۔

حلال سرٹیفیکیشن مارکس کاروبار کرنے میں آسانی اور سنگل ونڈو آپریشن کے لیے ایک اہم قدم ہے، یہ مقامی/غیر ملکی حلال سرٹیفیکیشن باڈیز کی رجسٹریشن اور شناخت بھی فراہم کرے گا۔ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی آغا حسن بلوچ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان حلال اتھارٹی کے علاقائی اور پورٹ دفاتر پی ایچ اے کو بین الاقوامی طریقوں کے مطابق حلال مصنوعات اور خدمات کو ریگولیٹ کرنے اور حلال سیکٹر کو فروغ دینے میں مدد کریں گے۔

انہوں نے میرٹ کے مطابق صوبائی کوٹہ کے نفاذ کے ساتھ ساتھ بھرتی کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ آغا حسن بلوچ نے کہا ہے کہ پی ایچ اے کی حلال سرٹیفیکیشن کی ترقی میں شرعی ماہرین کی قیمتی ان پٹ بھی شامل ہے۔ وفاقی وزیر نے ایک سال میں پی ایچ اے کو خود کفیل بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے جس کے بعد یہ اتھارٹی اپنے تمام اخراجات بشمول تنخواہیں خود برداشت کرے گی۔