اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے حکومت کو افغان مہاجرین سے متعلق پالیسی بنانے کی ہدایت کردی جبکہ افغان مہاجرین کے معاملے پر ذیلی کمیٹی بنانے کا بھی فیصلہ کرلیا، وزارت سیفران حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان میں افغان مہاجرین کے تقریبا54کیمپس ہیں، بہت سارے افغان رفیوجیز شہری علاقوں کی طرف جا چکے ہیں،اس وقت افغان مہاجرین کی رجسٹرڈٖ تعداد کا 32فیصد اب کیمپس میں رہ گیا ہے اور تقریبا68 فیصد شہری علاقوں میں رہ رہا ہے، ہمارے پاس غیر رجسٹرڈ 0.7ملین افغان مہاجرین ہیں۔
پیر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس چیئرپرسن کمیٹی ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو کی صدارت میں ہوا، اجلاس کے دوران رکن کمیٹی کشور زہرا نے کہا کہ ہمارے کارکنان کی باڈیز مل رہی ہیں،ہمارے 105لوگ لاپتہ تھے،تین کی باڈیزآنے کے بعد102 کے خاندانوں کی بری حالت ہے، اس معاملے کو سنجیدگی کے ساتھ لیا جائے،ہم حکومت کے اتحادی بھی ہیں، اتنا بڑا المیہ ہے، ایک لاش دس مہینے پہلے ملی اور تین دو دن کے اندر اندر ملی ہیں،یہ سلسہ ختم ہونے کو نہیں آرہا ہے پولیس بھی بدنام ہو رہی ہے، سیاسی پارٹیاں بدنام ہو رہی ہیں،
کشور زہرا نے کہا کہ کمیٹی میں یہ قرارداد پاس کی جائے کہ یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔رکن کمیٹی محسن داوڑ نے کہا کہ جو تین لاشیں ملی ہیں یہ انتہائی بربریت ہے اوراس کا نوٹس لینا چاہئے،پورے ملک میں یہ جبری گمشدگیاں ہیں اور یہ مسلسل ہو رہا ہے۔ چیئرپرسن کمیٹی ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ انسانی حقوق کی ہر خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہیں۔اجلاس میں افغان مہاجرین سے متعلق معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ وزارت سیفران حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں افغان مہاجرین کے تقریبا54کیمپس ہیں،43خیبرپختونخوا میں، دس بلوچستان میں اور ایک کیمپ پنجاب میں ہے، 58فیصد افغان مہاجرین خیبرپختونخوا میں،بلوچستان میں 23فیصد،پنجاب میں 11فیصداور سند ھ میں تقریبا 5فیصد ہیں، بہت سارے افغان رفیوجیز شہری علاقوں کی طرف جا چکے ہیں،اس وقت افغان مہاجرین کی رجسٹرڈٖ تعداد کا 32فیصد اب کیمپس میں رہ گیا ہے اور تقریبا68فیصد شہری علاقوں میں رہ رہا ہے، حکام نے بتایا کہ ہمارے پاس غیر رجسٹرڈ 0.7ملین افغان مہاجرین ہیں۔وزارت خارجہ حکام نے کمیٹی کو بتایاکہ نئے مہاجرین ہم لینے کے متحمل اس وقت نہیں ہو سکتے، مگر جو لوگ ہمارے پاس آئے ہیں
ان کو یہاں سے نکالا نہیں جارہا۔رکن کمیٹیمحسن داوڑ نے کہا کہ ہماری حکومت کی ابھی تک کوئی پالیسی نہیں ہے حکومت ان کے لئے کمیٹی بنائے تاکہ پالیسی بنائی جاسکے، سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ مہاجرین سے متعلق پارلیمانی کمیٹی ہونی چاہئے۔چیئرپرسن کمیٹی نے معاملے پر ذیلی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کرلیا اور حکومت کوافغان مہاجرین سے متعلق پالیسی بنانے کی ہدایت کی، چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ جب تک پالیسی نہیں بنتی ہم یہ معاملہ اٹھاتے رہیں گے،اجلاس میں وزارت داخلہ کا نمائندہ تاخیر سے آیا اور افغان مہاجرین کے معاملے سے متعلق اس کی تیاری نہ ہونے پر کمیٹی نے برہمی کا اظہار کیا، چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ تیاری کرکے آنا چاہئے تھا، آپ کو ایجنڈے کابھی نہیں پتہ اور آکر بیٹھ گئے ہیں۔ اجلاس میں نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔