پارٹی عہدیداروں کے کیخلاف تادیبی کارروائی سے لاعلم رکھا گیا، مرکزی کمیٹی کا اجلاس 23 نومبر کو طلب، مختار یوسفزئی
کوئٹہ (آن لائن) پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے جنرل سیکرٹری مختار خان یوسفزئی نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی پچھلے دس سال سے شدید تنظیمی، سیاسی اور نظریاتی بحران سے نبرد آزما ہے،
اس تمام عرصے میں مجھ سمیت پارٹی کے دیگر قائدین نے کوشش کی کہ پارٹی کو اس بحران اور تشویشناک صورتحال سے نکالے اور صحیح خطوط پر استوار کریں اور اس کے لئے ایک قابل حل راستہ تلاش کریں اس سلسلے میں بذات خود میں نے اور پارٹی کے دیگر ساتھیوں نے پارٹی کے محترم چیئرمین محمود خان اچکزئی سے متواتر اور سلسلہ وار نشتیں کیں اور بار بار یہ مطالبہ کیا،
کہ پارٹی کے مرکزی ادارے بالخصوص مرکزی کمیٹی کا اجلاس طلب کریں تاکہ پارٹی کو اس تنظیمی سیاسی اور نظریاتی بحران سے نکالا جائے پریس ریلیز میں جنرل سکرٹری مختار خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ 9اکتوبر 2022کو میں نے بہ حیثیت پارٹی جنرل سکرٹری ایک اخباری بیان کے ذریعے بھی پارٹی کے محترم چیئرمین سے درخواست کی تھی کہ پارٹی کو تنظیمی بحران سے نجات دلانے اور پارٹی کی گزشتہ30 سالہ سیاست اور نظریات کے برعکس محترم مشر محمود خان اچکزئی کے نئے بیانیہ کو پارٹی کے آئینی ادارے میں زیر بحث لانے اور متفقہ بیانیہ کی تشکیل کے لیے مرکزی کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے کے مطالبے اور درخواست پر صرف نظر کیا بلکہ سیاسی اختلاف رائے کی بنا پر بعض ساتھیوں کے خلاف تادیبی کا روائی کی اس بیان میں عجلت میں کئے گئے ان تمام تادیبی کاروائیوں کو نا مناسب قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان تمام تر کاروائیوں سے مرکزی ایگزیکٹو اور با لخصوص جنرل سیکرٹری کو بے خبر رکھا مختار خان یوسفزئی نے بیان میں کہا ہے کہ اس تشویش ناک صورتحال سے پارٹی کو نکالنے اور ان تمام مسائل پر سیر حاصل اور تفصیلی بحث کر نے اور متفقہ لائحہ ؑعمل بنانے کے لئے جنرل سیکریٹری کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے 23نومبر کو جنوبی پختونخوا کے مرکز کوئٹہ میں مرکزی کمیٹی کا خصوصی اجلاس طلب کیا جا رہا ہے اجلاس کا ایجنڈا اطلاع نامے کے ساتھ تمام مرکزی کمیٹی کے ممبران کو ارسال کیا جائے گا۔