|

وقتِ اشاعت :   December 15 – 2022

کوئٹہ :سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس، جسٹساطہر من اللہ اور جسٹس جمال مندوخیل نے کہا ہے کہ17ججزآئین پر عمل کریں گے تو ملک آگے جائیگا، آئین پر نظرثانی کی ضرورت ہے،ججز اور وکلاء آئین کی بالا دستی کریں تو ملک بھر میں کوئی چیک پوسٹ نہیں ہوگی، قوم میں جب تک آئین کی پاسداری نہیں ہوگی اس وقت تک شعور نہیں آئے گا، وکلاء کا بائیکاٹ روایت ہے لیکن آخری حل نہیں مسئلہ شروع ہونے سے قبل ہی ہڑتال کا آپشن نہیں ہونا چاہئے،

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو بلوچستان ہائیکورٹ بار روم میں وکلاء کی جانب سے سپریم کورٹ و ہائیکورٹ کے ججز کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیاتقریب سے چیف جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس شوکت علی رخشانی سمیت دیگر جسٹس اور بلوچستان بار کونسل وکلاء بار کی مختلف تنظیموں کے نمائندے بھی موجود تھے، سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ میں نے بچپن کوئٹہ اور ژوب میں گزارا ہے زمانہ طالب علمی میں اسلام آباد سے تربت تفتان تک بذریعہ سڑک سفر کیا

اور اس وقت بلوچستان پر امن صوبہ تھا تب ایک بھی چیک پوسٹ نہیں ہوتی تھی میرے لئے یہ اعزاز ہے کہ بلوچستان بار اپنے اصولوں کو برقرار رکھتا ہے، بلوچستان نے آئین کیلئے بہت قربانیاں دیں اور کئی شہداء بھی دیئے ہیں، وکلاء اور ججز اگر آئین کی بالا دستی کریں تو ملک بھر میں کوئی چیک پوسٹ نہیں ہوگی، سپریم کورٹ کے جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان میں گزرا ہوا وقت یاد آتا ہے مگر فخر ہے میں صوبے کی نمائندگی سپریم کورٹ آف پاکستان میں کرتا ہوں،جب میں سپریم کورٹ گیا تو اطہر من اللہ کی ڈیمانڈ تھی کہ کوئٹہ چلو میری ذمہ داری ہے کہ آپ کا پیغام آگے تک پہنچاتا رہوں آئین پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے،

17ججز آئین پر عمل کریں گے تو ملک آگے جائیگا، لوگوں کو شعور دینے کیلئے آئین پر عملدرآمد ضروری ہے، بلوچستان کے لوگوں کو اپنے آئینی حقوق کا علم تک نہیں قوم میں آئین کی پاسداری نہیں ہوگی تو شعور نہیں آئے گا عوام کو شعور دینے میں وکلاء بھی اپنا کردار ادا کریں وکلاء کا بائیکاٹ روایت ہے لیکن یہ آخری حل ہے مسئلہ شروع ہونے سے قبل ہی ہڑتال کا آپشن نہیں ہونا چاہئے،چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ مجھے سپریم کورٹ کے ججز بتاتے ہیں،

کہ بلوچستان کے وکلاء تیاری کیساتھ آتے ہیں، بیشتر وکلاء مجھ سے چھوٹے ہیں میں آپ کا بڑا بھائی ہوں جب وکیل روسٹر سے گزر کر آتا ہے تو سمجھ جاتا ہوں کہ تاریخ لینے آیا ہے یا کیس لڑنے، وکلاء اپنے وقت کو ایمانداری سے استعمال کریں اور ان سے گزارش ہے کہ وہ عدالتوں سے ہڑتال نہ کریں کیونکہ وکلاء کے بائیکاٹ سے سائلین کو مشکلات کا سامان کرنا پڑتا ہے وکلاء کے بائیکاٹ کے باعث دور دراز علاقوں سے آنے والے گواہ واپس چلے جاتے ہیں، اس لئے وکلاء اور ججز کو ملکر آئین کی بالادستی کیلئے کام کرنا ہوگا