خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسمٰعیل خان میں مردم شماری ٹیم کی سیکیورٹی پر معمور پولیس پر حملے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار جاں بحق اور 4 زخمی ہوگئے۔
ڈیرہ اسمٰعیل خان پولیس ترجمان نے یعقوب ذولقرنین نے کہا کہ یہ واقعہ گیرہ مستان میں دربین پولیس اسٹیشن کی حدود میں پیش آیا جس کے فوراً بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے علاقے میں پہنچ گئے اور حملہ آوروں کو گرفتار کرنے کے لیے سرچ آپریشن کا آغاز کردیا۔
ترجمان یعقوب ذولقرنین نے کہا کہ مردم شماری کی ٹیم پولیس اہلکاروں کے ساتھ علاقے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مصروف تھی کہ کچھ نامعلوم مسلحہ افراد نے پولیس وین فائرنگ کردی۔
انہوں نے کہا کہ حملے میں پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے جن کو دارا ہسپتال منتقل کیا گیا اور بعدااں ان نے سے ایک پولیس اہلکار زخموں کے تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا جن کی شناخت کوہاٹ کے رہائشی گل فراز کے نام سے ہوئی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ زخمی ہونے والے اہلکاروں کا علاج جاری ہے، تاہم حملہ آور فائرنگ کرکے بھاگ گئے جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا گیا ہے لیکن تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔
بعدازں، کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) نے حملہ کی ذمہ داری قبول کرلی۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس حکومت اور کالعدم ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات میں تناؤ کے بعد ٹی ٹی پی نے جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ملک بھر میں دہشت گردی کے حملے کرنے کی دہمکی دی تھی جس کے بعد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ایسی کارروائیوں میں تیزی آئی۔
ٹی ٹی پی نظریاتی طور پر افغان طالبان سے منسلک ہے جس کے سربراہ افغانستان میں مقیم ہیں اور وہاں سے ایسی دہشت گرد کارروائیوں کی ہدایات دیتے ہیں۔
اس سے قبل خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی پولیس لائین میں جمعہ کے روز مسجد میں ہونے والی نماز کے دوران خود کش حملہ آور کے حملے سے ایک سو شہری اور پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔
یکم فرروری کو میانوالی میں مکڑوال پولیس اسٹیشن پر بھاری ہتھیاروں سے لیس کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسندوں کے ایک گروپ نے فائرنگ کردی تاہم پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملے کو ناکام بنا دیا تھا۔
اس کے بعد 18 فروری کو صوبہ سندھ کے دارالحکومت میں شاہراہ فیصل پر واقع کراچی پولیس چیف کے دفتر پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا اور تقریباً ساڑھے تین گھنٹے سے زائد مقابلے کے بعد عمارت کو دہشت گردوں سے کلیئر کرا لیا گیا جبکہ حملے میں تین دہشت گرد مارے گئے تھے۔