پنجاب میں الیکشن کیلئے 21 ارب روپے کی فراہمی کے معاملے پر سپریم کورٹ کی ڈیڈ لائن کا آخری روز ہے، اسٹیٹ بینک نےاب تک الیکشن کمیشن کو رقم جاری نہیں کی۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے معاملہ قومی اسمبلی بھیج دیا، وزارت خزانہ سمری پیش کرے گی، قائم مقام گورنر بولیں سپریم کورٹ کے حکم پر رقم ایلوکیٹ کردی لیکن رقم کے اجراء کا اختیار اسٹیٹ بینک کے پاس نہیں۔ اٹارنی جنرل کہتے ہیں اگر اسمبلی نے 30 جون تک منظوری نہ دی تو پھر کون ذمہ دار ہوگا؟، سنجیدہ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، بہتر ہے منظوری پہلے لی جائے۔ وزیر مملکت عائشہ غوث پاشا بولیں سمری وفاقی کابینہ کو بھیجیں گے، تمام ادارے رولز پر عملدرآمد کرنے کے پابند ہیں۔
پنجاب میں انتخابات کیلئے 21 ارب روپے کے فنڈز کےاجراء کا معاملہ،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے باقاعدہ اجلاس سے قبل معاشی ٹیم نے سرجوڑ لیے ہیں۔
چیئرمین قیصر احمد شیخ کی زیرصدارت مشاورتی اجلاس جاری ہے، الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے دینے کا معاملہ قومی اسمبلی بھیجنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
مشاورتی اجلاس میں وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر تجارت نوید قمر شریک ہیں۔ چیئرمین قیصر احمد شیخ نے کہا وزیر خزانہ اسحاق ڈار اجلاس میں نہیں آئے، ایک سال سے کوئی وزیر خزانہ کمیٹی اجلاس میں نہیں آیا، معاون خصوصی طارق باجوہ نے کہا وزیر خزانہ اسحاق ڈار عمرے پر گئے ہوئے ہیں۔
دوران اجلاس وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت فیڈرل کنسالیڈیٹڈ فنڈ کے ایک ایک پیسے کا حساب رکھتی ہے، وزارت خزانہ کہہ چکی انتخابات کیلئے بجٹ میں اضافی فنڈز نہیں رکھے، انتخابات پر دو دو بار خرچہ کرنا ملکی مفاد میں نہیں ہیں۔ رکن کمیٹی برجیس طاہر نے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کو بریفنگ سے روک دیا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اجلا س میں اسٹیٹ بینک کو سپریم کورٹ کے احکامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ گورنر اسٹیٹ بینک، آڈیٹر جنرل آف پاکستان اجلاس میں مدعو ہیں۔ اجلاس میں اسمبلی کی پیشگی منظوری کے بغیر فنڈز اجراء کی ہدایات پر سفارشات مرتب کی جائیں گی۔
وفاقی وزیر تجارت نوید قمر نے قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں جذباتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں وزیر قانون اور اٹارنی جنرل سے اتفاق نہیں کرتا، ہمیں یہ معاملہ دوبارہ واپس قومی اسمبلی کو نہیں بھیجنا چاہئے، ہم عدالت کے احکامات پر یہ کام نہیں ہونے دیں گے، اگر ہمیں جیل بھیجا جاسکتا ہے تو ہم بھی انہیں جیل بھیج سکتے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہی اتفاق ہوا ہے کہ معاملہ وزارت خزانہ کے ذریعے اسمبلی لے جائیں۔ موسیٰ گیلانی نے قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک سیما گیلانی کی دلیل مسترد کردی۔ کہا کہ میرے اکاؤنٹ سے پیسے نکالنے کا اختیار میرے والد کو بھی نہیں، اسٹیٹ بینک کون ہوتا ہے عوامی پیسہ اسمبلی کی منظوری کے بغیر خرچ کرے؟۔