|

وقتِ اشاعت :   April 28 – 2023

 

دونوں مذاکراتی کمیٹیوں کے ارکان کے درمیان مذاکرات کا دورسرا دورپارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ شاہ محمود قریشی کی قیادت میں تحریک انصاف کے رہنما علی ظفراورفواد چوہدری پارلیمنٹ پہنچے۔جبکہ حکومتی ٹیم میں اسحاق ڈار، سید نوید قمر، اعظم نذیر تارڑ، سید یوسف رضا گیلانی اور خواجہ سعد رفیق شامل تھے۔

باخبرذرائع کے مطابق مذاکراتی عمل میں متعدد باردونوں جانب سےنوک جھونک بھی ہوئی، اورحکومتی رکن اور وزیر ریلوے سعدرفیق اورتحریک انصاف کے رہنما فوادچوہدری میں تلخ جملوں کاتبادلہ ہوا۔

اجلاس میں موجود دیگر قائدین نے مداخلت کرکے ماحول کوٹھنڈا کیا جبکہ اجلاس میں دونوں جذباتی ارکان کو تبدیل کرنے کا بھی تذکرہ ہوا۔

دوسرا دور مکمل ہونے کے بعد وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات میںکوئی ڈیڈ لاک نہیں ہے ، آئندہ منگل کو مذاکرات کا فائنل دور ہوگا۔

حکومت اور پاکستان تحریک انصاف میں مذاکرات کا دوسرا دور مکمل ہو گیا، جس بعد اب فائنل رئوانڈ منگل2 مئی کو ہوگا۔

حکومتی ٹیم کے رہنما اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ ایک تجویزہماری اورایک تجویزپی ٹی آئی کی طرف سےہے،ہم تجاویزکوحکومت کےسامنےرکھیں گے۔

انہوں نے کہاکہ بات چیت میں دونوں طرف سےپیش رفت ہوئی ہے،منگل کودوبارہ فائنل مذاکرات ہوں گے۔

وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ کوئی ڈیڈلاک نہیں ہے،طےہواہےکہ آج کےمذاکرات پردونوں وفدقیادت سےبات کریں گے۔

تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے فوادچودھری اورعلی ظفر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ مناسب پیشرفت حاصل کی ہے۔ تحریک انصاف نے اپنا نقطہ نظر پیش کر دیاہے، اورانہوں نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔

شاہ محمود نے کہا کہ وقفہ کیا ہے کہ ہم اپنی لیڈر شپ سے مشاورت کریں، پوری کمیٹی کل عمران خان سے ملنے لاہور جائے گی، اگلی نشست منگل کودن 11 بجے دوبارہ ہوگی۔

اس سے قبل مذاکرات میں نما ز کا وقفہ کیا گیا،پی ٹی آئی کمیٹی کے ارکان نےوقفے کے دوران چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے ملاقات کی۔

ملاقات میں فواد چودھری کا کہنا تھا ابھی عمران خان سےہمارا رابطہ ہوا ہے،ہم چاہتے ہیں کہ مزاکرات کامیاب ہوں،تحریری طور پر بھی اپنےمطالبات دیدیں گے۔

 

قبل ازیں شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے کارکنوں کورہا کردیا گیا ہے،انہوں نے کوئی نقص امن نہیں کیا تھا،امید پردنیا قائم ہے،میں نے بات کی تھی یہ مناسب نہیں تھا کارکنوں کورہا کردیاہے۔عمران خان پرمقدمات ختم کروانے سے متعلق سوال پرشاہ محمود قریشی خاموش رہے۔

اس سے قبل چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے شاہ محمود قریشی اورفواد چودھری کو ہدایت کرتے ہوئےکہا ہے کہ حکومت فوری اسمبلی توڑکرالیکشن کرانا چاہتی ہے توہی بات کریں،اگردوبارہ وہی ستمبر اکتوبرکی بات کرتے ہیں تو بات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

 

اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے موقع پرصحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ 14 مئی کو بھی الیکشن نہیں ہوتے تو آئین ٹوٹ جائے گا، اگر آئین ٹوٹ گیا تو پھر جس کا بھی زور ہوگا اسی کی بات چلےگی۔

حکومتی نمائندوں اورپی ٹی آئی کے درمیان گزشتہ روزملک میں ایک ہی دن انتخابات کرانے کے معاملے پرمذاکرات کا پہلا دور ختم ہوا۔حکومت کی جانب سے وزیر خزانہ اسحاق ڈار،وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اوروفاقی وزیر ایاز صادق جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی، سید نوید قمر، ایم کیو ایم کی کشور زہرہ اور محمد ابو بکر مذاکراتی ٹیم کا حصہ تھے۔

مولانا فضل الرحمان کی جماعت کا کوئی نمائندہ حکومت کی مذاکراتی ٹیم کا حصہ نہیں بنا،تحریک انصاف کی جانب سے سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری اور معروف قانون دان سینیٹر علی ظفر نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کیے۔

تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور میں پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی تاریخ دینے پر زور دیا، عمران خان جولائی تک قومی اسمبلی کی تحلیل چاہتے ہیں، جولائی کے بعد اسمبلی کی تحلیل پی ٹی آئی کو قبول نہیں ہوگی۔

 

عمران خان الیکشن کی تاریخ کوجولائی میں اسمبلی تحلیل کے ساتھ طے کرنا چاہتے ہیں،حکومتی ٹیم نے اتحادی جماعتوں سے مزید مشاورت کرنے کا کہا جس کے بعد مذاکرات کا پہلا دور ختم کردیا گیا۔

مذاکرات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ اتفاق ہوا ہے کہ ڈائیلاگ کےعلاوہ کوئی راستہ نہیں ہے،آج اچھے ماحول میں بات چیت ہوئی ہے،تحریک انصاف دوبارہ مطالبات پیش کرے گی،ہماری کوئی ڈیمانڈز نہیں، مطالبات سامنے آنے پراپنی قیادت سے مشاورت کریں گے۔

اس موقع پروزیر خزانہ اسحاق ڈار نےکہا کہ دوسرے دورمیں تفصیل سے ملاقات ہو گی،اتحادی حکومت کی مشاورت کے ساتھ آگے بڑھیں گے، یہ اصول طے ہے کہ آئین میں رہ کر معاملات کو حل کرنا ہے،ریاست اور عوام کے مفادات کو مد نظر رکھ کر سب طے کرنا ہے۔

واضح رہے کہ حکومتی اورتحریک انصاف کی مذاکراتی ٹیمیں ملک بھر میں ایک ہی دن انتخابات کے حوالے سے اتفاق رائے پیدا کریں گی جس کے بعد رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی،سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابات کے حوالے سے اتفاق رائے پائے جانے پر سپریم کورٹ 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کروانے کے فیصلہ پرنظرثانی کر سکتی ہے۔

سیاسی جماعتوں کا ایک ہی دن انتخابات کی تاریخ پر اتفاق نہ ہوا تو سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کروانے کا حکم برقرار رہنے کا امکان ہے، اگر سپریم کورٹ کے حکم پرعملدرآمد کرنے سے انکار کیا گیا تو حکومت کو توہین عدالت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔