چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے رہائی کے بعد مجھے پھر سے گرفتار کیا جائے گا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں غیر رسمی گفتگو میں عمران خان نے کہا کہ مسرت چیمہ سے نیب کی لینڈ لائن سے بات کی تھی، انہوں نے عدالت سے تمام مقدمات کو یکجا کرنے کی درخواست بھی کی۔
عمران خان کے وکلا نے بھی عدالت میں مؤقف اپنایا کہ خدشہ ہے کہ اس کیس میں ضمانت کے بعد کسی دوسرے کیس میں گرفتار کر لیا جائے گا۔
دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت میں میں نماز جمعہ کا وقفہ کردیا گیا۔ جسٹس میاں گل حسن اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز پر مشتمل دو رکنی بینچ درخواست کی سماعت کررہا ہے۔
عمران خان کمرہ عدالت میں موجود ہیں، اس سے قبل عمران خان کی بائیومیٹرک کا عمل مکمل کر لیا گیا، انہیں سپریم کورٹ کی جانب سے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں القادر ٹرسٹ سے متعقل کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت دائر کردی گئی ہے۔ درخواست میں چیئرمین نیب کو فریق بنایا گیا ہے۔
قومی احتساب بیور (نیب) نے بھی آج ہی عدالت میں درخواست ضمانت کی مخالفت کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل نیب سردارمظفر چیف جسٹس کی عدالت میں موجود ہیں۔ عمران خان نے نئے درج مقدمات میں بھی ضمانت کی درخواستیں دائر کر دیں، عمران خان کو کمرہ عدالت نمبر 2 میں بٹھا دیا گیا۔ درخواست ضمانت کی سماعت کمرہ عدالت نمبر 3 میں ہوگی۔