|

وقتِ اشاعت :   December 28 – 2023

پاکستان میں جب بھی کوئی آفت نازل ہوتی ہے، غیر منتخب حکومت ہوتی ہے، یا شاید غیر منتخب حکومت ہوتی ہے، تب، آفت نازل ہوتی ہے۔ پینسٹھ کی جنگ، اکہتر کی جنگ، سیاچین کا قبضہ، دہشت گردی کی جنگ یا آج کل کی افراتفری، جس کی وجہ سے پاکستان احتجاجستان بنا ہوا ہے۔ کشمیر سے شروع ہو کر، گلگت بلتستان سے ہوتا ہوا، پختونخوا سے گزر کر احتجاج کی

یہ لہریں، بلوچستان کے شہروں اور صحرائوں کو پار کرتی ہوئیں، اورماڑہ، جیوانی اور گوادر کے ساحلوں سے ٹکرا رہی ہیں۔
کشمیر میں مہنگی بجلی کے خلاف، چلاس، سکردو اور استور میں نئے توہین بل کے خلاف، گلگت میں آٹے کی سبسڈی واپس لینے کے خلاف، پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف، چمن میں بارڈر روزگار چھین لینے کے خلاف اور بلوچستان میں ماورائے قانون قتل مقاتلے اور جبری گمشدگیوں کے خلاف جاری احتجاج مختلف رنگ لئے ہوئے ہیں۔ لیکن غور سے دیکھا جائے تو ان میں زیادہ منظم احتجاج بلوچ کر رہے ہیں

۔ جن کی مزاحمتی تحریک نے عوامی پذیرائی اور اپنا تنظیمی سفر تقریباً مکمل کر لیا ہے۔ یہ تحریک ابتدائی ناراضی اور مسلح جدوجہد سے ہوتی ہوئی، دیہی بیداری پیدا کرتی ہوئی، شہروں سے گزرتی ہوئی،

مردوں کو پیچھے لگاتی ہوئی، منظم، متحرک اور خود اعتماد، تعلیم یافتہ عورتوں کی لیڈرشپ میں غیرمعمولی، غیر روایتی اور تاریخی مقامات سے گزر رہی ہے۔
روایتی بلوچ معاشرے میں، جہاں کبھی اونٹ، بکری اور عورت ملکیت سمجھی جاتی تھی

، اگر وہاں پر صرف عورتوں نے کسی جنازے کو کاندھا دیا ہوا ہو، اور صف در صف میت کے پیچھے کھڑی ہوں، تو یہ تاریخی بنچ مارک ثابت کرتی ہے، کہ بلوچوں نے اپنے قومی اہداف حاصل کرنے کے لئے مذہبی ذہن، روایتی بیڑیوں، قبائلی لیڈرشپ اور طبقاتی درجہ بندی کو نیوٹرلائز کر دیا ہے، جو ہماری دنیا میں کسی بھی دنیاوی تحریک کے لئے بہت بڑی کامیابی ہے۔
اس سیاسی مزاحمت میں چھوٹے بڑے، مرد و عورت، اور مولوی و مقتدی سب شامل ہوچکے ہیں، جبکہ اس کے سامنے کوئی حقیقی سیاسی بلوچ جماعت بھی مخالفت کرنے کے قابل نہیں رہی۔
اگر اس تحریک کا موازنہ ہم دوسری طرف موجود پختون سیاسی مزاحمت سے کرے، تو وہ ابھی تک غیر پارلیمانی مزاحمت اور پارلیمانی سیاست کے درمیان متذبذب کھڑی، بہت ابتدائی مرحلے میں، آدھی آبادی یعنی عورتوں سے محروم، تین سیاسی قطبین میں تقسیم اور مولوی کی موجودگی کے ساتھ برسر پیکار ہے۔ جہاں مولوی آج تک اپنے مقتدیوں سمیت الگ کھڑا اپنی سودا کاری میں مصروف ہے، اور وہ صرف اس لیے، کہ وہ ابھی تک اس تحریک سے الگ رہ کر بھی، اپنا سیاسی وزن اور خود ساختہ تقدس برقرار رکھے ہوئے ہے، بلکہ صرف وزن نہیں، وہ دوسری پختون قوم پرست سیاسی جماعتوں کی طرح مولوی کے مقتدی بھی پختون ہیں۔
تحریکیں چلانے اور تحریکیں توڑنے والوں کے لئے رواں بلوچ مزاحمتی تحریک ایک مثالی اور کلاسک کیس سٹڈی ہونی چاہیے۔ کسی تحریک کا یہاں تک پہنچنا اور پھر اس کو تتر بتر کرنا ایک ہمالیائی کامیابی سمجھی جانی چاہیے۔ اس تحریک میں موجود انرجی سے ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ ابھی جواں ہو رہی ہے۔
جب میں لکھتا ہوں کہ بلوچ تحریک مزاحمت ابھی جوان ہو رہی ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ پوری بلوچ قوم اس میں موجود اور مصروف ہے۔ اس تحریک کی لیڈر ماہرنگ بلوچ نے اسلام آباد سے حکم دیا، سڑکیں بند کرو، تو بلوچستان، پنجاب اور سندھ کا پورا بلوچ خطہ بند کر دیا گیا۔ پھر اس نے مذاکرات کے بعد دوبارہ کہا، کہ تین دن کا وقت دیتی ہوں،

تب تک کوئی راستہ بند نہ کریں، تو شہر کے شہر کھل گئے۔
یہ تحریک پہاڑوں سے شہروں، مردوں سے عورتوں اور یونیورسٹیوں سے سوشل میڈیا تک مکمل منظم ہے۔ اس کی کئی پرتیں اور تہیں ہیں، جس نے اپنا سارا ہوم ورک مکمل کر لیا ہے۔ اب بلوچ منت نہیں، احتجاج کرتے ہوئے، دھمکی آمیز مطالبات کرتے ہیں۔ غور کریں تو ان کی مستقبل کی نسل بھی، ان کے ساتھ جلسوں اور دھرنوں میں موجود اور زیر تربیت ہے۔ اہم یہ ہے کہ بلوچوں نے اپنی مخالف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو ڈائلوٹ (Dilute) کر دیا ہے۔ ان کے سرکار خوشامد سرداروں کے پاس صرف بڑی مونچھیں، لمبے بال، چالیس چالیس گز کی پگڑیاں اور خاندانی القاب بچے ہیں۔
بلوچ عورتیں میدان مزاحمت میں اپنے مردوں کو لیڈ کر رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف ہمسایہ اقوام کی ذہنی معذور اور جسمانی طور پر محدود عورتیں ابھی تک اپنے مردوں کو بے حوصلہ کر کے ڈراتی رہتی ہیں۔ ہمسایہ پختونوں کو اپنی سماجی ترقی اور شہری زندگی کی وجہ سے یہ عمومی غلط فہمی ہے، کہ وہ اپنے ارتقائی سفر میں بلوچوں سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔ لیکن میدان مزاحمت میں موجود خود اعتماد بلوچ عورت، یہ دعویٰ غلط ثابت کرتی ہے

کیونکہ پختون قوم بلوچ کے سامنے سماجی ارتقاء کی مدارج میں کافی پیچھے رہ گئی ہے۔
اس تحریک کا سیفٹی والوو یہ ہے کہ یہ لیڈرلس (بغیر کسی بڑے نام کے ) تحریک ہے۔ یوں جب آپ ایک کو پکڑ کر پریشر ڈالتے ہیں، تو اس کی خالی جگہ فوراً کوئی دوسرا بھر دیتا ہے، اور یوں تحریک چلتی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کی روایتی نشانیاں، فوک گیت، شاعر، موسیقار اور دانشور ان کے ساتھ کسی نہ کسی صورت میں قریبی رابطہ رکھے ہوئے ہیں۔
پاکستان میں اونٹ اور بکری کا جو تصور بلوچ کے ساتھ نتھی کیا گیا اور سمجھایا جاتا ہے، کہ بلوچ اپنے سردار کا غلام اور ذہنی طور پر پسماندہ ہے، وہ بالکل غلط اور مسخ شدہ۔ بیانیہ ہے۔ آج کا بلوچ ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ پڑھاکو اور تعلیم یافتہ ہے۔ وہ یونیورسٹیوں میں موجودگی کے علاوہ خلیج کے ممالک میں کثرت کے ساتھ سیکورٹی فورسز میں شامل ہے،

جہاں سے مالی منفعت حاصل کرنے کے علاوہ، عالمی ایکسپوڑر کے ساتھ ساتھ وہ جدید وارفیئر کے اصولوں سے بھی اچھی طرح واقف ہو گیا ہے۔پھر وہ اپنی ٹیرین اور جغرافیہ کے اندر اپنے ہمدردوں کے درمیان موجود ہے۔ جان اچکزئی جیسے نابغہ لوگ اس کو جتنا سیدھا سادہ معاملہ بتا کر پیش کر رہے ہیں، یہ معاملہ اتنا سیدھا سادہ نہیں ہے۔

کمزور ماہرنگ بلوچ کی نڈر شخصیت کے پیچھے اس کی پوری قوم کھڑی ہے اور یہ بات وہ بار بار دہرا رہی ہے، لیکن کوئی سنتا ہے نہ غور کرتا ہے۔
جب شاری بلوچ نے کراچی یونیورسٹی میں حملہ کیا،

تو اس پر بھی میں نے اپنے کالم میں ریاست کو خبردار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ آپ ایک دلدل میں اترنے لگے ہو، بہت احتیاط کرنی ہوگی۔ اور جب بلوچ مزاحمت کار خواتین اسلام آباد آئیں، تب بھی یہی مشورہ دیا کہ یہاں سب آتے ہیں، احتجاج کرتے ہیں۔ کوئی صحافی سچ لکھ نہیں سکتا، کوئی اخبار سب شائع نہیں کر سکتا، کوئی اینکر دل کی زباں بول نہیں سکتا، کوئی ٹی وی چینل عوامی دکھ دکھا نہیں سکتا، تو یہ پریس کلب پہنچ کر کیا کر سکتی ہیں؟جانے دیں، دو چار دن رو کر واپس چلی جائیں گی۔

ووٹ حاصل کرنے کی خاطر دو چار سیاستدان آ کر ان کے ساتھ زبانی کلامی اظہار ہمدردی کر لیں گے، دو چار سر پھرے کھانا، پانی، گرم کمبل اور ساتھ دے دیں گے، اور یہ، جو تصاویر سینے سے لگا کر آئی ہوئی ہیں، وہی تصاویر ویسے سینے سے لگائے دوبارہ آہ ستان چلی جائیں گی۔ لیکن ان کو زبردستی روک کر سڑک پر بیٹھنے پر مجبور کیا گیا۔ تشدد کیا گیا۔

بات عدالت تک گئی۔ ٹی وی چینلز اور اینکرز ملوث ہو گئے تو عالمی اخبارات اور ٹی وی چینلز تک دلچسپی لینے لگے۔ یہ سب تو عشروں سے جاری ہے، پہلے کسی کو بلوچ گم کردہ لوگوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی، لیکن اب سب کو دیبل میں قید پاکستان سٹڈی کے زندہ کرداروں پر یقین آ گیا ہے۔
اب بھی وقت ہے، ہوش کے ناخن لیں۔ جو کرتے ہو، اس کو روک نہیں سکتے، تو پھر احتجاج کرنے والوں کو کھل کر رونے کی جگہ، کھانا، پانی اور سہولیات دیا کرو۔ تماشا بنائو گے تو یہی تماشا ہو گا، جو اپنے گرم گھروں میں بلوچستان کی گیس کے گرد بیٹھے اسلام آبادی، پنڈی وال اور ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔
نگران حکومت جس کام کے لئے آئی تھی، وہ اس کے علاوہ، وہ سب کچھ کر رہی ہے، جو اسے نہیں کرنی چاہیے تھی۔ جو کسی کے سامنے جوابدہ نہ ہو، ان کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی نہ نگران اپنی قابلیت یا حب الوطنی کی وجہ سے آئے ہیں، اس لیے مہربانی کر کے وہ ایسا ثابت کرنے کی کوشش بھی نہ کرے۔