|

وقتِ اشاعت :   February 25 – 2024

حکومت سازی کے نام پر سیاسی بندر بانٹ شروع ہوگئی ہے۔ اقتدار کے لنگر میں کسی کے ہاتھ مرغی کی ٹانگ لگ گئی تو کسی کے ہاتھ سینہ لگ گیا۔ بالآخر “جتوانے” والوں نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں معاملات طے کروادیے ہیں۔ جن کے مطابق آصف علی زرداری صدر اور شہباز شریف وزیراعظم ہوں گے۔ اسپیکر قومی اسمبلی ن لیگ اور سینیٹ چیئرمین کی کرسی پیپلز پارٹی کو ملے گی۔ گورنر پنجاب بھی جیالا ہوگا۔ ن لیگ نے سندھ اور پختونخوا کی گورنرشپ پر ہاتھ رکھ دیا۔ مزید بندر بانٹ کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ بلوچستان میں پی پی پی اور مسلم لیگ ن کی مشترکہ حکومت بنے گی۔ وزارت اعلیٰ پیپلز پارٹی جبکہ اسپیکر اور سینیئر وزیر مسلم لیگ ن کا ہوگا آئندہ حکومت میں بلوچستان عوامی پارٹی( بی اے پی) کو بھی وزارتیں ملیں گی، تاہم وفاق اور صوبوں میں بننے والی حکومتیں سات مہینے کے بچے کی پیدائش کی مانند ہوں گی۔ جس کی زندگی کا دار و مدار وینٹی لیٹر پر ہوگا۔ اب سوال یہ پیدا ہوچکا ہے کہ اس وینٹی لیٹر میں کتنے عرصے کی آکسیجن ڈالی جائے گی ؟ کیونکہ اس کا اختیار پیپلز پارٹی کے پاس ہے اور نہ ہی مسلم لیگ ن کی قیادت کے پاس۔ اس کا فیصلہ “جتوانے” والوں کے ہاتھ میں ہے۔ اس وقت پاکستانی ریاست بدترین معاشی مسائل سے دوچار ہے۔ معیشت کا بھٹہ بیٹھ گیا ہے۔ اسی طرح سیاسی عدم استحکام اپنے عروج پر ہے۔ جبکہ عوامی غم و غصہ اپنی جگہ موجود ہے۔ عوام نے اپنے غصے کا اظہار 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں کیا تھا۔ یہ دراصل ایک انقلابی عمل تھا۔ اس صورتحال کے پیش نظر بننے والی “نومولود” حکومتیں کتنی طاقتور ہیں؟تو اس کا جواب نفی میں ملے گا۔ کیونکہ ان حکومتوں کے پاس عوامی مینڈیٹ بالکل بھی نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ بہت ہی کمزور حکومتیں ہوں گیں جبکہ مضبوط معیشت کا انحصار ایک مستحکم حکومت کے قیام پر ہوتا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا بلوچستان اور وفاق میں بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل، حق دو تحریک کے بانی مولانا ہدایت الرحمان اور نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر مالک بلوچ حکومتوں کا حصہ بنیں گے؟ اگر حصہ بنیں گے تو کن شرائط کی بنیاد پر ؟۔ ان رہنماؤں نے بلوچستان کے ساحل و وسائل پر بلوچ قوم کی حکمرانی اور جبری گمشدگی کے خلاف نعروں کی بنیاد پر عوام سے ووٹ حاصل کیے تھے۔ ان تینوں رہنماؤں کے لئے سخت فیصلے کرنے کا وقت ہے۔ ایک طرف اقتدار کے مزے تو دوسری جانب اپوزیشن میں بھوک و افلاس اور قید و بند بھی ہے۔
بلوچستان کی حکومت “بلوچستان افیئر” نامی واٹس اپ گروپ کی مانند چلے گی۔ یہ واٹس گروپ صرف رات کو چلتی ہے۔ اس میں بڑی بڑی باتیں ہوتی ہیں۔ بڑے بڑے دعوے کئے جاتے ہیں۔ آپس میں سخت جملوں کا مقابلہ ہوتا ہے۔ ناراضگی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر رات دیر تک چلتا رہتا ہے۔ صبح اٹھتے ہی سب بھول جاتے ہیں۔ یعنی “رات گئی بات گئی”۔
“بلوچستان افیئر” کے بانی میرے شاگرد، میر عبدالحفیظ کلمتی تھے۔ کلمتی صاحب سماء ٹی وی کے کراچی بیورو میں سینئر رپورٹر ہیں۔ تاہم میرے دیگر چار شاگردوں نے اس گروپ پر قبضہ جمالیا۔ اور انہیں گروپ سے ریموو کردیا گیا۔ جس کی وجہ سے مجھے (راقم) اپنے ان چار شاگردوں کو اپنی شاگردی سے عاق کرنے کا اعلان کرنا پڑا۔ ان شاگردوں میں میر ابوبکر جدگال (24 ٹی وی، کراچی)، میر ماہر بلوچ (سماء ٹی وی، لاہور ہیڈ آفس)، میر اسماعیل خان ساسولی (ڈان ٹی وی، حب بیورو) اور میر عبداللہ زہری (ڈان ٹی وی، بیوروچیف، کوئٹہ) شامل ہیں۔ اس واقعہ کے بعد میں نے اپنے ایک اور شاگرد، شاہد رند کو شعلے فلم کے “جے اور ویرو” (ابوبکر اور ماہر) سے دور رہنے کی تلقین بھی کی تھی۔ شاہد رند اسلام آباد سے 92 میں اینکرپرسن کی حیثیت سے کام سرانجام دے رہے ہیں۔ تاہم شاہد رند میرے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کررہا ہے۔ میں نے انہیں سختی سے منع کیا ہے کہ وہ میرے راستے پر نہ چلے کیونکہ اس راستے پر بھوک و افلاس کے سوا کچھ بھی نہیں ملے گا۔ کسی زمانے میں میرے پاس گاڑی (کار) ہوا کرتی تھی۔ اب مجھے فٹ پاتھوں پر پیدل گھومنا پڑرہا ہے۔
میں رند صاحب کو ڈاکٹر مالک بلوچ بننے کا مشورہ دیتا رہتا ہوں۔ وہ مشورہ کچھ یوں ہے۔
جب ڈاکٹر مالک بلوچ بزرگ سیاسی رہنما ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کی قیادت میں سیاست کرتے تھے تو وہ بھی مالی حوالے سے سخت مصائب کا شکار تھے۔ کیونکہ ڈاکٹر حئی صاحب نہ خود کماتے تھے اور نہ ہی دوسروں کو کمانے دیتے تھے۔ وہ سیاست کو ایک عوامی خدمت سمجھتے تھے۔ جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ فٹ پاتھوں پر پیدل گھومتے تھے۔ جب ڈاکٹر مالک نے حئی بلوچ کو چھوڑ کر اپنا لیڈر میر حاصل خان بزنجو (مرحوم) کو چنا تو ان کی لاٹری لگ گئی۔ حاصل خان نے جنرل پرویز مشرف کے دور میں مسلم لیگ ن کے سربراہ نوازشریف پر جو احسانات کئے تھے۔ اس کے عوض میں نوازشریف نے نیشنل پارٹی کو بلوچستان کی حکومت دی۔ جس کی بدولت ڈاکٹر مالک بلوچ وزیراعلیٰ بن گئے۔ ڈھائی سال کے عرصے میں نیشنل پارٹی والوں کی ٹیڑھی کمر سیدھی ہوگئی۔ راتوں رات “کنگلے” ارب پتی بن گئے۔ بے گھر سیاستدان بڑے بڑے بنگلوں میں رہنے لگے۔
خالد خان لانگو 2013 کے عام انتخابات میں نیشنل پارٹی کی ٹکٹ پر ضلع قلات سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ انہیں ڈاکٹر مالک نے اپنا مشیر مقرر کردیا۔ انہوں نے کرپشن کے ریکارڈ توڑ دیئے۔ اس وقت کے سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کے گھر سے ٹرکوں کے حساب سے پیسے پکڑے گئے، مشتاق رئیسانی کے گھر سے دو ارب 24کروڑ 91لاکھ روپے برآمد ہوئے، اس کے علاوہ قبضے میں لی جانے والی اشیاء میں چار کروڑ کا سونا، پرائزبانڈز، سیونگ سرٹیفکیٹس، ڈالر، پاؤنڈز اور مختلف جائیدادوں کے کاغذات شامل تھے۔ مشیر خزانہ خالد لانگو کو اپنی جان بچانے کے لئے بلوچستان ہائی کورٹ کا رخ کرنا پڑا۔ تاہم ان کی درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) نے انہیں احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ کے “سی ایم سیکرٹ فنڈز” سے من پسند اور درباری صحافیوں کا خیال رکھا گیا۔ انہیں پانچ لاکھ سے بیس لاکھ تک نوازا گیا۔ کراچی سے تعلق رکھنے والا سینئر صحافی نے مجھے سی ایم سیکرٹ فنڈز کی فہرست دکھا کر کہنے لگا “سنگھور صاحب!” یہ دیکھ لیں۔ مجھ سمیت بے شمار کوئٹہ اور کراچی سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کی مالی اعانت ہوئی ہے۔ جبکہ آپ! ڈاکٹر مالک، میر حاصل خان اور سینیٹر طاہر بزنجو کے قریبی دوست ہیں۔ آپ بھی ان سے مالی اعانت لیں۔ یہ سن کر مجھے بہت تعجب ہوا اور میں نے ان کو کہا: ” یہ فنڈز سی ایم کے ذاتی پیسے نہیں ہیں بلکہ بلوچستان کے غریب عوام کے پیسے ہیں۔ وہاں کے لوگ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے معمولی بیماریوں سے مرجاتے ہیں۔ یہ کیسا وزیراعلیٰ ہے جو غریب عوام کے فنڈز کو من پسند اور غیر متعلقہ افراد میں بندر بانٹ کررہے ہیں”۔
میری باتیں سننے کے بعد اس سینئر صحافی نے مجھے دنیا کا بے وقوف شخص قراردیا۔ تاہم میں نے اس کو جواب نہیں دیا مگر دل ہی دل میں انہیں یہ کہہ دیا: “اگر یہ بے وقوفی ہے تو مجھے یہ بے وقوفی سو بار قبول ہے”۔
بلوچستان میں ہمیشہ سردار اور نوابوں کی قیادت میں حکومتیں بنتی تھیں۔ مگر پہلی دفعہ مڈل کلاس یعنی ڈاکٹر مالک بلوچ کی قیادت میں حکومت بنی تھی۔ لیکن اس مڈل کلاس حکومت نے کرپشن کے تاریخی ریکارڈ بھی توڑ دیئے۔ سردار اور نوابوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔