ملک کے بڑے شہروں میں جعلی ادویات کی بھر مار ہے مخصوص مافیاز میڈیسن مارکیٹ کو کنٹرول کرتے ہیں۔
ایک افسوس ناک خبر یہ ہے کہ انتہائی خطرناک اور جان لیوا بیماری کینسر کے انجکشن میڈیکل اسٹورز پر مختلف قیمتوں پر فروخت کئے جارہے ہیں 20 ہزار روپے سے لیکر 7 لاکھ سے اوپر تک کی قیمتیں بتائی جاتی ہیں جبکہ انجکشن وہی ایک ہے۔
کراچی میں یہ گھناؤنا دھندہ چند پرائیویٹ کمپنیوںاور میڈیکل اسٹورز کی ملی بھگت سے کیا جارہا ہے۔
کراچی کے ایک میڈیکل اسٹور کے عملے کے مطابق 20 ہزار روپے سے لیکر 50 ہزار روپے کے ایسے انجکشن جو کینسر کے مریضوں کو لگائے جاتے ہیں وہ جعلی ہیں جبکہ اس کی اصل قیمت 7 لاکھ روپے ہے اوراسی انجکشن کی قیمت ترکی میں پاکستانی 3 لاکھ روپے کی ہے۔
کینسر سے متاثرہ مریضوں کی جان کے ساتھ کھیلنا انتہائی شرمناک اور انسانیت سے عاری عمل ہے، غریب طبقہ ہو یا امیر انسانی زندگی کی اہمیت پیسوں سے بڑھ کر نہیں مگر افسوس ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہیں جو اسلام کے نام پر بنایا گیا ہے ،اسلام سب سے پہلے انسانیت، ایمانداری کا درس دیتا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں تمام انسانی اقدار کو پامال کیا جاتا ہے، انسانی جانوں کے ساتھ کھیلا جاتا ہے۔
متاثرہ مریض اور اس کا خاندان اپنے پیارے کی جان بچانے کیلئے اپنی جمع پونجی خرچ کرتے ہیں تاکہ وہ کینسر جیسے خطرناک مرض سے نجات پائے ۔
مافیاز مریض کو جعلی انجکشن کے ذریعے انتہائی تکلیف دہ عمل اور موت کی آغوش میں بھیجنے جیسے سنگین جرائم کے مرتکب ہورہے ہیں۔
ڈرگ کنٹرول اتھارٹی مکمل طور پر غیر فعال ہے، میڈیکل اسٹورزاور جعلی کمپنیوں کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرنے اور قرار واقعی سزا دلانے کیلئے ہمارا قانون بے بس ہے۔
سندھ حکومت کو خاص کر اس اہم نوعیت کے مسئلے پر پوری مشینری لگانی چاہئے تاکہ اس گورکھ دھندے کو ختم کیا جاسکے۔
غریب لوگوں کی جانوں سے کھیلنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ۔وفاقی حکومت کو بھی جعلی انجکشن اور ادویات کے معاملے کو سنجیدگی کے ساتھ لینا چاہئے ،تمام دوائیوں کی چیکنگ کیلئے ایک خصوصی ٹاسک فورس علیحدہ تشکیل دینی چاہئے تاکہ ملک بھر سے جعلی ادویات اور انجکشن کی فروخت کو روکا جاسکے جس سے بچے، جوان، بزرگ سب ہی متاثر ہورہے ہیں، چھوٹی سے لیکر بڑی بیماری ان کیلئے جان لیوا ثابت ہورہی ہے۔
اگر حکومت نے اس معاملے پر سنجیدہ نوٹس نہیں لیا تو اسپتالوں پر مریضوں کا دباؤ شدید بڑھ جائے گا حالانکہ اب بھی مختلف امراض تیزی کے ساتھ پھیل رہے ہیں، سرکاری اور نجی اسپتالوں میں مریضوں کا دباؤ بہت زیادہ شرح کے ساتھ بڑھ رہا ہے جس کی بڑی وجہ جعلی انجکشن اورادویات ہیں۔
حکومت کی ذمہ داری اور سب سے بڑے فرائض میں انسانی جان کا تحفظ شامل ہے ۔
جعلی ادویات کی فروخت بھی دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے ،مافیاز شہریوں کو خاموشی سے موت کی طرف دھکیل رہے ہیں جو ناقابل معافی جرم ہے اس معاملے کو بھی دہشتگردی طرز پر دیکھا جائے اور کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کے ساتھ متاثرہ خاندانوں کو ذہنی اذیت اور مالی پریشانی سے نجات مل سکے۔
واضح رہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں جعلی ادویات کی فروخت کا انکشاف گزشتہ ماہ 14 فروری 2025 کو سامنے آیا تھا۔
ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری نے مختلف ادویات کے جعلی ہونے کی تصدیق کی تھی اور رپورٹ کی تھی کہ جن کمپنیوں کی ادویات پکڑی گئیں ان کا وجود ہی نہیں۔
سربراہ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری عدنان رضوی کے مطابق 7 جعلی کمپنیوں کی ادویات جعلی نکلیں، جعلی دوائیاں بنانے والے انسانی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں، ذمہ داروں کے خلاف ڈرگ ایکٹ کے تحت کاروائی ہونی چاہئے۔
صوبائی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی رپورٹ میں ہوش ربا انکشافات سامنے آئے تھے جس میں بتایا گیا تھا کہ ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کی100سے زائد ادویات غیر معیاری نکلیں ، جن میں عام استعمال کی ادویات کے ساتھ جان بچانے والی دوائیاں بھی شامل ہیں۔
صوبائی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے مطابق دوائیوں میں مطلوبہ مقدار موجود نہیں۔ ان تمام مصدقہ معلومات کے بعد اب سندھ حکومت کو خاموشی اختیار نہیں کرنی چاہئے بلکہ سخت عملی اقدامات اور آپریشن کرنا چاہئے تاکہ لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑکرنے والوں کو قرار واقعی سزا مل سکے۔
کراچی میں کینسر کے جعلی انجکشن کی فروخت کا انکشاف، انسانی اقدار سے عاری عمل ناقابل معافی!

وقتِ اشاعت : 4 hours پہلے
Leave a Reply