|

وقتِ اشاعت :   March 24 – 2025

کراچی:بلوچ یکجہتی کمیٹی، سول سوسائٹی کراچی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، مرکزی رہنما بیبگر بلوچ، کامریڈ بیبو بلوچ سمیت سیاسی رہنماؤں کی غیر قانونی گرفتاری کے خلاف ہونے والے ممکنہ احتجاج کو روکنے کے لئے سندھ پولیس نے کراچی پریس کلب کے باہر مکمل ناکہ بندی کردی، جبکہ پریس کلب کے آنے جانے والے تمام راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے راستےبلاک کردیئے گئے۔

 

بلوچ یکجہتی کمیٹی، سول سوسائٹی کراچی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے۔ اس کی اجازت انہیں دستور پاکستان دیتا ہے۔ لیکن کراچی پولیس کی جانب سے پرامن احتجاج کو روکنے کے لئے قدغن لگانا سمجھ سے بالاتر ہے۔

ان کہنا ہے کہ سندھ پولیس کی غنڈہ گردی عروج پر ہے۔ پرامن احتجاج کرنے پر قدغن لگا کر پیپلز پارٹی کی حکومت نے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم ہے۔

علاوہ ازیں پریس کلب کے باہر ناکہ بندی کے باعث کراچی پریس کلب کے معزز ارکان کو بھی پریس کلب میں جانے سے روکنے کی کوشیش کی جارہی ہے۔ صحافیوں کے کارڈ چیک کئے جارہے ہیں جبکہ صحافیوں سے پولیس کی الجھنے کی شکایات بھی موصول ہورہی ہے۔ واضع رہے کہ ماضی میں پریس کلب کی ناکہ بندی کی گئی تھی۔ جس پر پریس کلب کے منتخب باڈی نے سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ایک غیر جمہوری عمل ہے۔ اور اظہار رائے پر پابندی تصور کیا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *