بلوچستان ینگ پارلیمنٹرینز فورم (YPF) کا دوسرا اجلاس آج چیئرمین روی پہوجہ کی زیر صدارت بلوچستان اسمبلی میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں نوجوان اراکین اسمبلی جن میں زرین خان مگسی، ظفر علی آغا، میر جہانزیب مینگل، میر لیاقت علی لہڑی، سنجے کمار، ہادیہ نواز بہرانی، کلثوم نیاز بلوچ اور سلمیٰ کاکڑ نے شرکت کی۔
اجلاس کا مقصد نوجوانوں کو درپیش چیلنجز پر غور اور ان کے حل کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی وضع کرنا تھا۔
اراکین نے بلوچستان کے نوجوانوں کو درپیش اہم مسائل جیسے بے روزگاری، معیاری تعلیم کی کمی، ڈیجیٹل مواقع تک محدود رسائی اور پالیسی سازوں سے نوجوانوں کا بڑھتا ہوا فاصلہ زیرِ بحث لایا گیا۔
ممبران نے اس بات پر اتفاق کیا کہ نوجوانوں کو پالیسی سازی میں شامل کیے بغیر نہ پائیدار ترقی ممکن ہے اور نہ امن کا قیام۔
اجلاس میں بلوچستان یوتھ پالیسی کے ازسرنو جائزے کا فیصلہ کیا گیا۔ اراکین نے صوبے بھر کی جامعات، کالجوں اور دور دراز علاقوں کے دورے کرنے کا عزم کیا تاکہ نوجوانوں سے براہ راست ملاقات کر کے ان کے خیالات اور مسائل سنے جا سکیں۔
چیئرمین روی پہوجہ نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے اسمبلی کے اندر ایک مخصوص پلیٹ فارم قائم ہوا ہے۔ ہم اس فورم کو نوجوانوں کی آواز بنائیں گے۔
اراکین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ نیشنل اسمبلی کے ینگ پارلیمنٹرینز فورم اور دیگر صوبائی اسمبلیوں کے متعلقہ پلیٹ فارمز سے روابط قائم کیے جائیں گے تاکہ باہمی تعاون اور مشترکہ اقدامات کو فروغ دیا جا سکے۔
فورم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نوجوانوں کی شراکت کو مضبوط پالیسی فریم ورکس، استعداد کار بڑھانے کے پروگرامز، اور روزگار و کاروبار کے مواقع پیدا کر کے یقینی بنایا جائے گا۔
ینگ پارلیمنٹرینز فورم نوجوانوں اور صوبائی اسمبلی کے درمیان پل کا کردار ادا کرے گا تاکہ نوجوانوں کے مسائل صرف سنے ہی نہیں جائیں بلکہ ان پر عملی اقدامات بھی کیے جائیں۔