کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کا اجلاس : صوبائی بجٹ کے اعداد و شمار پر سوالات اٹھائے گئے بلکہ بارڈر ایریا میں پیدا شدہ بحران پر بھی توجہ دلائی گئی۔اسمبلی کے آغاز میں اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے نور محمد دومڑ کے خلاف ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے معاملے پر ایف آئی اے سے تحقیقات کرانے کی رولنگ دی۔
رحمت صالح بلوچ نے ایوان کو آگاہ کیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے باعث بارڈر ایریاز میں اشیائے خوردونوش کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے، اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ راشن کی فراہمی فوری طور پر یقینی بنائی جائے۔ اس پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے یقین دہانی کرائی کہ “بحران کی صورتحال ضرور ہے، مگر ہم اپنے لوگوں کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے اور بارڈر ایریا میں کھانے پینے کی اشیاء کی کمی نہیں ہونے دیں گے۔
اجلاس میں اپوزیشن لیڈر یونس زہری نے بجٹ پر تفصیلی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ “بلوچستان کا بجٹ پیش ہو چکا ہے، مگر آمدن ناکافی ہے۔ وفاق کو چاہئے کہ ہماری پوری رقم ادا کرے تاکہ صوبے کے حالات بہتر بنائے جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ کا دعویٰ ہے کہ بجٹ سرپلس ہے، مگر اعدادوشمار میں فرق ہے۔ “ہمارے مطابق 52 ارب روپے سرپلس ہے جبکہ وزیرخزانہ 36 ارب روپے سرپلس ظاہر کر رہے ہیں۔یونس زہری کے مطابق:ترقیاتی مد میں صرف 16 ارب 15 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔صحت، زراعت، لائیو اسٹاک، انڈسٹریز اور لوکل گورنمنٹ کے لیے ناکافی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
ایجوکیشن پر ایک کھرب روپے سے زائد خرچ کیا جا رہا ہے مگر نتائج تناسب سے مطمئن نہیں ہیں۔پینے کے پانی کا مسئلہ شدید ہے اور پی ایچ ای کے 11 ارب روپے ناکافی ہیں۔بجٹ خرچ کرنے کا طریقہ کار واضح نہیں ہے، اور اسے شفاف انداز میں خرچ کیا جانا چاہیے۔اپوزیشن کو بجٹ والیم فراہم نہیں کیا گیا، جس سے بجٹ پر مؤثر بحث ممکن نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جنگلات کے لیے دعویٰ ہے کہ 18 لاکھ درخت لگائے گئے مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ 18 ہزار بھی دکھائی نہیں دیتے۔ایریگیشن کے لیے 32 ارب 32 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں مگر ان کے حلقے میں ایک بھی اسکیم شامل نہیں کی گئی۔امن و امان کے لیے 99 ارب روپے رکھے گئے ہیں، مگر سیکیورٹی کی صورتحال بدتر ہوتی جا رہی ہے۔سیکورٹی اداروں کو بجٹ دیا جا رہا ہے مگر امن و امان کی حالت بہتر نہیں ہو رہی۔مہنگائی کے تناسب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہیں بڑھائی گئیں، اور ان سے کیے گئے وعدے پورے نہیں ہوئے۔