ماشکیل:ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے باعث بلوچستان کے سرحدی تحصیل ماشکیل میں بارڈر بند ہونے کی وجہ سے اشیاء خوردونوش اور تیل کی شدید قلت پیدا ہوئی ہے دوسری جانب سرحدی علاقے کے لوگوں کی معاش اور روزگار کا انحصار زیادہ تر ایران بارڈر پر ہونے کی وجہ سے لوگوں کی پریشانی میں بھی اضافہ ہوا ہے
بلوچستان کے دیگر سرحدی علاقوں کی طرح ماشکیل میں بھی بارڈر کے سوا روزگار کا اور کوئی متبادل ذریعہ نہیں ہے جس کی باعث ماشکیل کے لوگ شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں ایران سرحد کی بندش سے ماشکیل میں فی لیٹر پیٹرول تین سو پچاس روپے کا پہنچ گئی ہے جبکہ ماشکیل کا تیل اور ایندھن کے لیے انحصار مکمل طور پر ہمسایہ ملک ایران پر ہے ستر ہزار آبادی پرمشتمل ضلع واشک کا آبادی اور رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا تحصیل ماشکیل کے لوگ اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے
ماشکیل میں نہ کوئی فیکڑی ہے اور نہ ہی کوئی کارخانہ یہاں کے باسیوں کا صدیوں سے روزگار کا انحصار ایران سرحد رہی ہے سرحد کے حالیہ بندش سے ماشکیل بازار کے مارکیٹں اور دوکانیں بند پڑی ہے جبکہ تمام تر تجارتی سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئی ہے ماشکیل کے لوگوں نے حکومت پاکستان اور حکومت بلوچستان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ بارڈر جلد اور ہنگامی بنیادوں پر بحال کیا جائے تاکہ علاقے کے لوگوں کی پریشانی اور مشکلات دور ہو سکیں اور ان کو دو وقت کی روٹی میسر ہو۔۔۔۔