|

وقتِ اشاعت :   June 22 – 2025

کوئٹہ:نیشنل کمیشن برائے اطفال بلوچستان، محکمہ سماجی بہبود، یونیسف اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے اشتراک سے کوئٹہ میں ایک اہم لابنگ میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ اس میٹنگ کا مقصد بلوچستان میں کم عمری کی شادی کی ممانعت سے متعلق قانون سازی کی راہ میں حائل رکاوٹوں پر غور کرنا اور بل کو بلوچستان اسمبلی سے منظور کرانے کے لیے ایک متفقہ لائحہ عمل طے کرنا تھا۔

میٹنگ میں نیشنل کمیشن برائے اطفال بلوچستان کے رکن ایڈووکیٹ عبدالحئی، محکمہ سماجی بہبود کے ڈپٹی ڈائریکٹر ناصر بلوچ، یونیسف کی نمائندہ بشریٰ، یو این ایف پی اے کی صوبائی سربراہ سادیہ عطا، ایڈ بلوچستان کے میر بہرام لہڑی، سینئر صحافی میر بہرام بلوچ، ہیومن رائٹس کے نمائندہ اسفندیار بادینی، نیشنل کمیشن کے علی رضا، ہیلپ لائن کے اشفاق مینگل، دانش کے مینیجر سعید کھوڑو، اسلامک ریلیف کے شاہد عزیز، سوشل ویلفیئر کی سعیدہ منان اور دیگر متعدد سول سوسائٹی نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس میں اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ بلوچستان میں کم عمری کی شادی کی ممانعت کا بل 2013 سے التوا کا شکار ہے، حالانکہ یہ بل بلوچستان کابینہ سے منظور ہوچکا ہے اور صرف اسمبلی میں پیش کیے جانے کا منتظر ہے۔ شرکاء نے اس تاخیر کی سخت مذمت کی اور حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ بل کو فوری طور پر اسمبلی میں پیش کیا جائے۔

اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کو خصوصی طور پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جس نے سب سے پہلے 2014 میں صوبہ سندھ میں کم عمری کی شادی کی ممانعت کا قانون منظور کیا۔ اب جب کہ یہ بل وفاق میں بھی پیش کیا گیا تو دنیا نے دیکھا کہ پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر بچوں کے حقوق کے تحفظ میں قائدانہ کردار ادا کیا، اور صدر جناب آصف علی زرداری کی قیادت میں اس قانون کو منظور کرایا۔

سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر علی مردان خان ڈومکی سے بھی پُر امید توقعات کا اظہار کیا، جنہوں نے 2018 میں ایک سیمینار کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ اس قانون کو اسمبلی سے منظور کرائیں گے۔ میٹنگ میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ وزیر اعلیٰ کی بچوں سے متعلق حساس سوچ اس قانون کی منظوری میں اہم کردار ادا کرے گی۔

مزید برآں، شرکاء نے اس قانون کو صرف انسانی حقوق کے تناظر میں نہیں بلکہ صحتِ عامہ کے زاویے سے بھی دیکھنے پر زور دیا۔ ماہرین نے نشاندہی کی کہ کم عمری میں شادی نوجوان بچیوں کی صحت کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہے، جس سے فسٹولا جیسے موذی امراض جنم لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ، 18 سال کی عمر تک لڑکیوں کے جسمانی اعضا مکمل نشوونما کے مرحلے میں ہوتے ہیں، اور اس عمر میں زچگی نہ صرف ماں بلکہ بچے کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

آخر میں، تمام شرکاء نے بل کی منظوری کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور تمام سیاسی جماعتوں، بالخصوص بلوچستان اسمبلی کے ارکان سے مطالبہ کیا کہ وہ بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے اس بل کی منظوری میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔