|

وقتِ اشاعت :   July 3 – 2025

کوئٹہ: ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مستونگ میں حالیہ دہشتگردی کے واقعے اور حکومت کے ردعمل پر تفصیلی بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ مستونگ میں دہشتگردوں نے تحصیل آفس کو نشانہ بنایا، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے چار دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ کچھ حملہ آور موقع سے فرار ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ حملے کے فوری بعد کچھ دیر کے لیے ایسا تاثر پیدا ہوا کہ جیسے ریاست میں دہشتگردوں کی رٹ قائم ہو گئی ہو، لیکن سیکیورٹی فورسز نے موثر جوابی کارروائی کے ذریعے ثابت کر دیا کہ ریاست ہر حال میں اپنی رٹ قائم رکھے گی۔

شاہد رند نے کہا کہ حکومت نے اس واقعے کے بعد سیکیورٹی پلان کا ازسر نو جائزہ لیا اور فوری طور پر نئے سیکیورٹی اقدامات نافذ کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو امن و امان بہتر بنانے کے لیے نیا سیکیورٹی پلان بھی فراہم کر دیا گیا ہے۔

ترجمان بلوچستان حکومت نے کہا کہ حالیہ بجٹ میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں جن میں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) کے قیام کا اعلان بھی شامل ہے۔ اس فورم کا مقصد ضلعی انتظامیہ کو بااختیار بنانا اور عوام تک براہ راست رسائی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ڈپٹی کمشنر کو پروجیکٹ ڈائریکٹر (PD) تعینات نہیں کیا گیا۔

شاہد رند نے کہا کہ ڈی سی سی کو مکمل وسائل فراہم کیے گئے ہیں تاکہ عوامی مسائل مقامی سطح پر ہی حل کیے جا سکیں، اور ہر ڈی سی سی کی سربراہی متعلقہ حلقے کے ایم پی اے کو سونپی جائے گی۔

انہوں نے مستونگ میں بینک ڈکیتی کا بھی ذکر کیا، جہاں دہشتگردوں نے چار کروڑ روپے لوٹ لیے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ بینکوں پر نجی سیکیورٹی تعینات ہوتی ہے، تاہم حکومت نے بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ مزدوروں اور عام شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے بھی متحرک ہے۔

آخر میں، بلوچستان کے بجٹ پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے شاہد رند نے کہا کہ حکومت نے ایک متوازن اور ترقیاتی بجٹ پیش کیا ہے، جس میں سیکیورٹی سمیت عوامی فلاح کے تمام شعبوں کو بھرپور اہمیت دی گئی ہے۔