|

وقتِ اشاعت :   July 10 – 2025

لیاری کی تنگ گلیوں میں چار جولائی کی صبح ایک ایسا المناک واقعہ پیش آیا جس نے ہر دل کو دہلا دیا۔ ایک بوسیدہ عمارت کے اچانک زمین بوس ہونے سے 27 قیمتی جانیں ملبے تلے دب گئیں ،جن میں مائیں، معصوم بچے، محنت کش باپ اور خوابوں سے بھرے نوجوان شامل تھے۔ چیخوں، آہوں اور آسمان کو چھوتی فریادوں نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔ لیاری میں یہ صرف ایک عمارت نہیں گری بلکہ کئی گھرانے، کئی خواب اور کئی امیدیں مٹی میں دفن ہو گئیں۔ لیاری آج صرف ایک حادثہ نہیں، ایک صدمہ جھیل رہا ہے، جو برسوں تک اس کے باسیوں کے دلوں پر تازہ رہے گا۔ یہ سانحہ ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ غفلت اور ناانصافی کا انجام کتنا ہولناک ہو سکتا ہے۔
لیاری، جو کبھی کراچی کا ایک سرگرم اور تاریخی علاقہ سمجھا جاتا تھا، آج بے شمار مسائل کا شکار ہے۔ بے روزگاری یہاں کے نوجوانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، روزگار کی کمی نوجوانوں کو مایوسی کی طرف دھکیل رہی ہے جس کی وجہ سے وہ یا تو جرائم کی طرف مائل ہو جاتے ہیں یا منشیات جیسی لعنت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ تعلیم کا فقدان اس صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیتا ہے، کیونکہ جب تعلیمی ادارے ناکافی ہوں یا ان کی حالت خستہ ہو، تو نوجوانوں کے پاس بہتر مستقبل کے مواقع کم ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے بچے تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں اسکولوں میں تعلیمی معیار نہ ہونے کے برابر ہے، جس سے نئی نسل کا مستقبل تاریک ہو رہا ہے۔
سڑکوں کی خراب حالت اور بنیادی ڈھانچے کی کمی بھی لیاری کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے۔ گلیوں کی ٹوٹ پھوٹ، سیوریج کا ناکارہ نظام اور آمد و رفت کی دشواریوں نے روزمرہ زندگی کی مشکلات مزید بڑھادیں ہیں۔لیاری کی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور ان پر سرکاری ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی نے عوام کو روزانہ کی بنیاد پر سفری مشکلات میں مبتلا کر رکھا ہے۔ پانی اور بجلی کی کمی نے عوام کو شدید اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے، یہاں چھوٹی چھوٹی گلیوں میں موجود مخدوش عمارتیں کسی بھی وقت انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
لیاری ایک تاریخی اور محبِ وطن علاقہ ہے، مگر بدقسمتی سے یہاں مسائل کی بھرمار ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ عوامی نمائندے جو مسائل حل کرنے کے دعوے کرتے نظرآتے ہیں، وہ منتخب ہونے کے بعد عوام کو یکسر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ لیاری کے رہائشی اپنے حال پر چھوڑ دیے گئے ہیں،یہاں نہ کوئی پالیسی نظر آتی ہے اور نہ ہی عملی اقدامات، جس سے عوام میں مایوسی اور بے بسی بڑھتی جا رہی ہے۔
ان حالات میں خاموشی اختیار کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ لیاری کے باسیوں کو اپنی آواز مؤثر انداز میں بلند کرنا ہوگی۔ سب سے پہلے، مقامی سطح پر اتحاد قائم کرتے ہوئے محلے کی سطح پر کمیٹیاں بنانی چاہئیں جو ان مسائل کو دستاویزی شکل میں جمع کر کے میڈیا، سوشل میڈیا، اور مقامی نمائندوں کے سامنے رکھیں۔ پْرامن احتجاج، دستخطی مہم، اور عوامی اجلاس کے ذریعے حکام بالا کو متوجہ کیا جا سکتا ہے۔ نوجوان طبقہ خاص طور پر متحرک ہو کر لیاری کی تصویر بدلنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ، شہریوں کو اپنے ووٹ کی طاقت کو بھی پہچاننا ہوگا۔ ہر الیکشن میں صرف وعدے سننے کے بجائے، پچھلے ریکارڈ کی بنیاد پر نمائندوں کو چنیں، اور ان سے ترقیاتی کاموں کا باقاعدہ مطالبہ کریں۔ لیاری میں تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب لوگ خود اپنی حالت بدلنے کا فیصلہ کریں اور مسلسل کوشش جاری رکھیں۔
لیاری کو اپنے اورآنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کیلئے جاگنا ہوگا کیونکہ اب ان کے جاگنے کا وقت ہوا چاہتا ہے وگرنہ لیڈر ہی زندہ رہ جائیں گے اور لیاری مرجائے گا۔