|

وقتِ اشاعت :   July 15 – 2025

کوئٹہ: ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورایا اور ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند نے ایک اہم پریس کانفرنس میں تاجر کے 11 سالہ بیٹے مصور کاکڑ کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے۔

ڈی آئی جی اعتزاز گورایا کے مطابق گرفتار ملزم بشام کا تعلق افغانستان سے ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران ملزم کے اعترافی بیان کی ویڈیو بھی دکھائی گئی، جس میں اس نے تسلیم کیا کہ وہ کچھ عرصہ قبل پاکستان آیا تھا اور ایک کمرہ کرائے پر لے کر رہائش پذیر ہوا۔ اسے ایک موٹرسائیکل دی گئی اور بچے کے اغوا کی منصوبہ بندی میں شامل کیا گیا۔

ملزم بشام نے اعتراف کیا کہ بچے کے اغوا اور قتل میں یوسف، ریحان، شیر ناصر، شجاع، سالار اور بخاری نامی افراد بھی ملوث تھے۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ گرفتار ملزم کا ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے، جس میں اس نے اہم انکشافات کیے ہیں۔ مزید کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے مطابق، اس کیس میں ملوث بعض ملزمان کا تعلق کالعدم تنظیم “فتنہ الخوارج” سے ہے، جن کے روابط پاکستان اور افغانستان دونوں سے ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سریاب کے رہائشی یوسف کو ایک آپریشن کے دوران 13 میل کے علاقے میں ہلاک کر دیا گیا جبکہ ریحان رند بھی دشت آپریشن میں مارا گیا۔ تاہم ملزم کے بیان کردہ دو دیگر افراد تاحال مفرور ہیں۔

اعتزاز گورایا نے کہا کہ مصور کاکڑ کے اغوا اور قتل پر پوری قوم افسردہ ہے اور یہ ایک ناقابلِ برداشت واقعہ ہے۔ کیس بند نہیں ہوا اور مکمل انصاف کے لیے کارروائی جاری ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند نے بتایا کہ شعبان سے اغوا کیے گئے 6 نوجوانوں کی ذمہ داری ایک کالعدم تنظیم نے قبول کی تھی۔ اس واقعے میں ہونے والی کسی بھی پیشرفت سے متاثرہ خاندان کو بروقت آگاہ کیا جائے گا۔