دنیا بھر میں مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (MSMEs) ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں یہی کاروبار روزگار کے بے شمار مواقع پیدا کرتے ہیں،
مقامی پیداوار کو فروغ دیتے ہیں اور معاشی استحکام کی بنیاد بنتے ہیں پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں ایک جانب بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے اور دوسری جانب معیشت مسلسل دباؤ کا شکار ہے تو ایسے حالات میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے پاکستان کی آبادی 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے
ہر سال لاکھوں نوجوان ڈگریاں لے کر معاشی میدان میں اترتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ حکومت ہو یا نجی شعبہ اتنی نوکریاں پیدا نہیں ہو سکتیں جتنی اس ملک کے نوجوانوں اور دیگر افراد کو درکار ہیں
ایسے میں سوال یہ ہے کہ ملک کی ایک بڑی آبادی اپنی صلاحیتوں کو کہاں استعمال کرے یا اس کو زیادہ موثر انداز میں کیسے فعال بنایا جائے؟
جواب سادہ مگر طاقتور ہے، انٹرپرینیورشپ ۔
یعنی اپنا کاروبار، اپنا روزگار، ایسے میں ضروری ہے کہ نوجوانوں اور مقامی آبادی کو کاروبار کی جانب راغب کیا جائے تاکہ وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کر سکیںیہی وہ سوال تھا جس نے کئی قومی و بین الاقوامی اداروں کو سوچنے پر مجبور کیا، اور اس کا عملی جواب بن کر سامنے آیا گراسپ پراجیکٹ ۔
گروتھ فار رورل ڈویلپمنٹ اینڈ سسٹین ایبل پروگریسس (GRASP) یورپی یونین کے مالی تعاون سے چلنے والا ایک منصوبہ ہے، جسے انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر (ITC) پاکستان پاورٹی ایلیویئیشن فنڈ، ایف اے اور اور سمیڈا کے ساتھ مل کر سندھ اور بلوچستان کے 22 اضلاع میں نافذ کر رہا ہے اس کے ذریعے دیہی علاقوں میں کاروباری افراد کو مالی وسائل تک رسائی کے ساتھ ساتھ تربیت، رہنمائی، مشاہداتی دورے اور مارکیٹ تک رسائی کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں اس کا مقصد دیہی علاقوں میں کام کرنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) کو فروغ دینا ہے تاکہ کاروباری مالکان، اور دیہی علاقوں میں رہنے والے افراد کا معیار زندگی بہتر بنایا جاسکے،
کاروبار کو فروغ دیا جاسکے، اور روزگار کے مواقع پیدا کر کے پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دیا جا سکے یہ محض سرکاری رپورٹ نہیں اصل کہانی وہاں ہے جہاں ان اعداد و شمار نے اصل میں زندگیوں کو بدلا ہے اس سلسلے میں محمد حنیف کی کہانی ہمیں ایک کامیاب کاروبار کے سفر سے متعارف کرواتی ہے محمد حنیف کا تعلق سندھ سے ہے اور یہ بچھلے دس سالوں سے ڈیری کے کاروبار سے منسلک ہیں اور ان کی اپنی ملک شاپ ہے ان کے کاروبار کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی بجلی کی لوڈ شیڈنگ جس سے دودھ زیادہ دیر تک محفوظ نہ رکھا جا سکتا ہے گراسپ پراجیکٹ کے ذریعے انہوں نے میچنگ گرانٹ حاصل کی اور اس سے سولر پینلز نصب کروائے جس کی بدولت بجلی کی لگاتار فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔
اب ان کے فریزر اور چلر مشینیں دن رات کام کرتی ہیں اور دودہ کی بلا تعطل فراہمی اب ان کے لیے مسئلہ نہیں اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے دودھ کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے کوالٹی انالائزر یعنی کولٹی جانچنے کے آلات بھی خریدے ہیں اب دودھ کی وافر مقدار کی بدولت انہوں نے دودھ کے ساتھ ساتھ دودھ سے بنی دیگر مصنوعات مثلا‘‘ دہی، مکھن وغیرہ کی فروخت کا کام بھی شروع کر دیا ہے
جب کام بڑھا تو یقینا انہیں اضافی عملے کی ضرورت بھی پڑی اور ایسے مزید کئی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیداہوئے،ایسی ہی ترقی کی ایک اور کہانی ہے بلوچستان سے مریم اینڈ منتہا کاسمیٹک لمیٹڈ کی ، جس کی مالک شاہین اعجاز قدرتی اجزا سے بیوٹی پراڈکٹس تیار کرتی ہیں اور مقامی و صوبائی سطع پر ان کی فروخت کا کام کرتی ہیں گراسپ سے ملنے والی مالی معاونت ، اور تکنیکی رہنمائی کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل مارکیٹینگ اور ای کارمرس کی تربیت نے ان کے کاروبار کو اک نئی سمت دی انہوں نے مقامی اور ملکی سطع پر ہونے والء مختلف نمائشوں اور فیسٹیول میں بھی شرکت کی جس سے ان کی فروخت اور منافع میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ شاہین نے نہ صرف دیگر خواتین اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا بلکہ اپنے علاقے کی خواتین کے لیے مثالی رول ماڈل بھی بنیں ان کا کامیاب سفر اس بات کی گواہی ہے کہ خواتین گھر بیٹھے بھی باوقار کاروبار شروع کر کے خودمختار بن سکتی ہیںگراسپ جیسے پروگرام اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ اگر مقامی کاروباروں کو درست وقت پر رہنمائی، تربیت، مالی معاونت اور مارکیٹ تک رسائی فراہم کی جائے تو نہ صرف ایک فرد کا کاروبار کامیابی کی منزلوں کو چھوتا ہے بلکہ وہ دوسروں کے لیے بھی روزگار اور ترقی کے مواقع پیدا کرتا ہے خواہ وہ سندھ میں محمد حنیف جیسے ڈیری فارمر ہوں یا بلوچستان میں شاہین اعجاز جیسی کاروباری خواتین—یہ سب وہ لوگ ہیں جنہوں نے صرف اپنا نہیں، بلکہ دوسروں کا بھی مستقبل سنوارا ہے پاکستان جیسے ملک میں، جہاں ہر سال لاکھوں نوجوان روزگار کی تلاش میں نکلتے ہیں، ایسے میں انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینا ہی وہ پائیدار راستہ ہے جو معیشت کو مستحکم، معاشرے کو خودمختار، اور افراد کو باوقار بنا سکتا ہے۔