وزیراعلیٰ کی مشیر مینا مجید نے کہا کہ روایات کے امین صوبے میں ایسے واقعات افسوس ناک ہے، صوبے کی تمام خواتین ان واقعات کی مذمت کرتی ہیں ہماری حکومت نے سردار کو گرفتار کرکے مثال قائم کی ہے کسی کو سافٹ کارنر نہیں دیا جائے گا ،بخشا نہیں جائے گا خواتین سے متعلق فرسودہ روایات کاخاتمہ کیا جائے ۔
حق دو تحریک کے رکن مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ میں مرد اور عورت کے قتل کی مذمت کرتا ہوں، ہمارا دین غیرت مند مذہب ہے، کسی کو ہماری چادر وچاردیواری کی پامالی کی اجازت نہیں۔ بی اے پی کی رکن فرح عظیم شاہ نے کہا کہ ہم اس واقعہ کی مذمت کرتے ہیںکسی کو ریاست کے اندر ریاست بنانے کی اجازت نہیں دیں گے بعدازاں بلوچستان اسمبلی نے مرد اور عورت کے قتل کے واقعہ کے خلاف مشترکہ مذمتی قرارداد منظور کرلی جس کے بعد اسپیکر نے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 25 جولائی کی سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کردیا ۔