|

وقتِ اشاعت :   July 25 – 2025

کوئٹہ: جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے کہا ہے کہ ہم اپنے 6 مطالبات جن میں لاپتہ افراد کی بازیابی ، صوبے میں جاری بد امنی اور بے روزگاری ، ٹرالر مافیا ، سی پیک میں صوبے کو نظر انداز کرنے کے علاوہ صوبے کے وسائل پر لوگوں کو دسترس نہ دینے کے خلاف اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کررہے ہیں کیونکہ پاکستان کا آئین مجھے پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے بلوچستان کے حقوق لینے اسلام آباد جارہے ہیں بلوچستان کو عزت دو سیکورٹی فورسز عوام کو عزت نہیں دیتے جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں ہوتے تب تک اسلام آباد سے واپس نہیں آئیں گے۔

ان خیالات کا اظہار جمعہ کی صبح کوئٹہ سے اسلام آباد کیلئے لانگ مارچ کے روانہ ہونے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر مولانا عبدالحق ہاشمی، عبدالمتین اخونذادہ، ڈاکٹر عطاء الرحمن، حافظ نور علی، مولانا عبدالحمید منصوری، عبدالولی شاکر، جمیل مشوانی، عبدالنعیم رند سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ مولانا ہدایت الرحمن کی قیادت میں جماعت اسلامی کوئٹہ کے زیرا ہتمام لانگ مارچ کوئٹہ سے کچلاک، بوستان کے راستے روانہ ہوگیا کچلاک بوستان تک جماعت اسلامی کے قافلے کو تین مقامات پر روکنے کی کوشش کی گئی ایئرپورٹ روڈ ،طور ناصر،کچلاک بائی پاس اور کچلاک بازاراوربوستان کے مقام پررکاوٹیں کھڑی کی گئیں،جماعت اسلامی کا قافلہ روکاوٹیں ہٹا کر اسلام آباد کی جانب روانہ ہوگیا مولانا ہدایت الرحمن اور شرکاء کا کہنا ہے کہ ہم تمام روکاوٹیں توڑکر اسلام آباد پہنچیں گے

حکومت ہمارے پر امن لانگ مارچ و جدو جہد کے راستے میں روکاوٹیں نہ ڈالے ہم پرامن لوگ ہیں ہمیں اشتعال نہ دلائیںہم پرامن طریقے سے اسلام آباد جائیں گے۔جماعت اسلامی بلوچستان کی جانب سے چھ نکاتی مطالبات کی منظوری کے لیے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ روانہ ہوگیا۔ مطالبات میں لاپتہ افراد کی بازیابی، صوبے میں بدامنی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے خاتمے کے علاوہ بلوچستان کے وسائل کے تحفظ، ٹرالر مافیا کی سرپرستی ختم کرنے اور سی پیک میں صوبے کو مسلسل نظر انداز کرنے جیسے مسائل بھی مطالبات میں شامل ہیں۔