بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں ارکان نے صوبے میں پوست کی کاشت، منشیات کی بڑھتی ہوئی فروخت اور نوجوان نسل کی بربادی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ رکن اسمبلی زابدعلی ریکی نے اسمبلی میں پوست کی کاشت کے خلاف قرارداد پیش کی، جس میں کہا گیا کہ پوست کی کاشت اس وقت صوبے میں ایک خطرناک ناسور بن چکی ہے، جس نے نوجوانوں، بزرگوں اور بچوں تک کو نشے کی لعنت میں مبتلا کر دیا ہے۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ یہ زہر ہمارے معاشرے کی جڑیں کھوکھلا کر رہا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے اس مسئلے پر خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔
زابد علی ریکی نے کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی زمین پر پوست کی کاشت کرتا ہے تو اسے گرفتار کیا جائے اور قومی اسمبلی میں بھی اس مسئلے کو اٹھایا جائے۔ علی مدد جتک نے کہا کہ زابدعلی ریکی نشاندہی کریں کہ کن کن اضلاع میں پوست کی کاشت ہو رہی ہے، ہم اسے ختم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن بلوچستان میں منشیات عام کر کے نوجوان نسل کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔
اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے کہا کہ اگر حکومت ایکشن نہیں لیتی تو تمام اضلاع کے پولیس افسران کو اسمبلی میں طلب کیا جائے۔ ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ حکومت اپوزیشن سے نشاندہی مانگ رہی ہے، کیا حکومت اور ڈپٹی کمشنرز کو خود معلوم نہیں؟ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ناسور کے خلاف سنجیدہ اور مؤثر کارروائی کرے۔
صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ حکومت پوست کی کاشت کے خلاف سرگرم ہے، تمام اضلاع میں انتظامیہ کارروائی کر رہی ہے، کئی آپریشنز ہو چکے ہیں اور حکومت کسی کو پوست کاشت کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 3000 نشئی افراد کو حراست میں لے کر ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔
رکن اسمبلی برکت رند نے شکایت کی کہ تربت میں منشیات نوشی اور فروخت عروج پر ہے، وہ پانچ دن ڈی پی او تربت کو فون کرتے رہے مگر فون نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ منشیات سرعام فروخت ہو رہی ہیں۔ سلیم کھوسہ نے کہا کہ پورے بلوچستان میں پوست کی کاشت ہو رہی ہے جو دہشت گردی سے بڑا چیلنج بن چکی ہے، اس پر سخت ردعمل آنا چاہیے۔ اشوک کمار نے کہا کہ منشیات بلوچستان کے لیے لعنت بن چکی ہے، اس کے خلاف پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے، جبکہ حب شہر میں غیر قانونی پٹرول کی بھی فروخت جاری ہے اور ڈی پی او حب انہیں سیکورٹی فراہم نہیں کر رہا۔
غزالہ گولہ نے کہا کہ پوست کی کاشت سب کا مشترکہ مسئلہ ہے اور نشہ ہر جگہ عام ہوتا جا رہا ہے۔ آغا عمر احمد زئی نے کہا کہ منشیات سے سب سے زیادہ کوئٹہ متاثر ہو رہا ہے اور انتظامیہ سب جانتے ہوئے بھی خاموش ہے۔ عاصم کرد گیلو نے کہا کہ بلوچستان میں ہر گلی کوچے میں منشیات فروخت ہو رہی ہے، نئی نئی اقسام کی منشیات آ رہی ہیں اور تعلیمی ادارے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کے ذریعے انسانیت کا قتل کیا جا رہا ہے۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ صوبے کے اکثر علاقوں میں پوست کی کاشت سرعام جاری ہے جہاں قانون کی عملداری نہ ہونے کے برابر ہے۔ منافع کی لالچ اور مجرمانہ خاموشی نے ہماری نسلوں کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم اس غیر انسانی کاشت کی بھرپور مذمت کریں اور روک تھام کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت بلوچستان فوری طور پر پوست کی کاشت پر پابندی عائد کرے، کاشت شدہ فصل کو تلف کرے اور اس غیر قانونی سرگرمی میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائے۔