|

وقتِ اشاعت :   August 1 – 2025

کوئٹہ:لاپتہ علی اصغرقمبرانی، فضل الرحمن قمبرانی، ضیاء الرحمن قمبرانی اور شیر باز بنگلزئی کے اہلخانہ نے کہا کہ اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے در در کی ٹھوکریں کھائی بالآخر وہ بازیاب ہوگئے لیکن گزشتہ شب انہیں دوبارہ جبری طور پر لاپتہ کرکے چادر و چار دیواری کی پامالی کی گئی ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں ہمارے لاپتہ پیاروں کو منظر عام پر لاکر رہا کیا جائے۔

یہ بات انہوں نے جمعہ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ کئی مہینوں کی اذیت کے بعد بالآکر ہمیں سکون کا سانس نصیب ہوا ہمارے پیارے بازیاب ہوئے اور گھر میں ایک بار پھر خوشیاں لوٹ آئیں ہم نے ان تمام افراد اور اداروں کا شکریہ ادا کیا جن کی کوششوں سے یہ ممکن ہوا لیکن ہمیں کیا معلوم تھا کہ یہ لمحے عارضی ہوں گے۔ گزشتہ شب گھر کی چادر و چار دیواری پامال کی گئی ایک بار پھر ہم اسی اذیت کا شکار ہوئے جس کا سامنا ہم دو دہائیوں سے کررہے ہیں ہم سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آخر ہمارا جرم کیا ہے ہمیں کس خطاء کی سزا دی جارہی ہے ۔

اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے فریاد کرتے کرتے تھک چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات ایک بار پھر علی اصغر، فضل الرحمن قمبرانی کو جبری طور پرلاپتہ کردیا گیا جبکہ شیر باز بنگلزئی کو بھی کلی قمبرانی کوئٹہ سے جبری طور پر اٹھایا گیا ہے اس سے قبل مارچ کے مہینے میں بھی ہمارے کئی عزیز جبری گمشدگی کا شکار بنے تھے جن علی اصغر، افضل الرحمن اور ضیاء الرحمن شامل تھے ان کی بازیابی کے لئے ہم نے احتجاج اور پریس کانفرنسز کیں کمشنر کوئٹہ سے ملاقاتیں کیں اور مہینوں بعد بحفاظت واپس آئے مگر انہیں کل رات دوبارہ جبری گمشدگی کا شکار بنادیا ہے ہم صوبائی حکومت ، کمشنر کوئٹہ، ریاستی اداروں اور تمام متعلقہ ذمہ داروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے پیاروں کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔