|

وقتِ اشاعت :   August 4 – 2025

بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع “ہامونِ مشکیل” ایک موسمی نمکین جھیل ہے، جو تحصیل نوکنڈی، شہر نوکنڈی سے جنوب مشرق کی جانب تقریباً پچاس کلومیٹر کے فاصلے جو کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ جھیل پاکستان کی سب سے بڑی خشک جھیل تصور کی جاتی ہے، جس کی لمبائی تقریباً 85 کلومیٹر اور چوڑائی 35 کلومیٹر ہے۔


بارشوں کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں اور ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان سے سینکڑوں چھوٹی بڑی ندیاں اس جھیل میں آکر گرتی ہیں، جس سے یہ وقتی طور پر پانی سے بھر جاتی ہے۔ پانی جمع ہونے کی صورت میں نوکنڈی سے ماشکیل جانے والا راستہ مہینوں تک منقطع رہتا ہے۔


یہ علاقہ اپنی ویرانی اور خطرناک جغرافیائی حالات کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ یہاں انسانی آبادی یا سہولیات کا کوئی نام و نشان نہیں۔ “ہامونِ مشکیل” کو مقامی طور پر “بگ” بھی کہا جاتا ہے، یعنی ایک ایسا مقام جہاں راستہ بھٹکنے کا مطلب موت کو دعوت دینا ہے۔ کئی انسانی جانیں اس بے رحم صحرا میں پیاس اور گمشدگی کے باعث ضائع ہو چکی ہیں۔ چند سال قبل پنجاب سے تعلق رکھنے والے تین افراد ایران جانے کی کوشش میں اسی علاقے میں پیاس سے ہلاک ہو گئے تھے۔


یہ جھیل نہ صرف قدرتی لحاظ سے منفرد ہے بلکہ اس میں موجود معدنیات بھی بے حد قیمتی ہیں۔ حالیہ سائنسی تحقیقات کے مطابق، ہامونِ مشکیل پاکستان کے لیے لیتھیئم جیسے قیمتی اور مستقبل ساز معدنی ذخائر کا ممکنہ مرکز بن سکتی ہے۔
اس جھیل کی ارضیاتی ساخت، آتش فشانی مٹی کی موجودگی، گرم پانی کے چشمے، اور انتہائی خشک موسمی حالات، جنوبی امریکہ کے مشہور لیتھیئم ذخائر جیسے اٹاکاما (چلی) اور یُونی (بولیویا) سے حیرت انگیز مماثلت رکھتے ہیں۔


ابتدائی تخمینوں کے مطابق، اس جھیل میں 80 لاکھ ٹن سے زائد نمک (NaCl) موجود ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ زیرِ زمین لیتھیئم برائنز کی بڑی مقدار بھی موجود ہو سکتی ہے۔ اگر یہاں سائنسی بنیادوں پر جدید جیوفزیکل سروے، کھدائی، اور ماحولیاتی تجزیہ کیا جائے، تو ہامونِ مشکیل پاکستان کا پہلا بڑا لیتھیئم برائن ذخیرہ بن سکتا ہے۔یہ دریافت پاکستان کے لیے ایک انقلابی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے، جس سے نہ صرف ملکی معیشت مستحکم ہوگی بلکہ ہم الیکٹرک گاڑیوں، بیٹریوں اور صاف توانائی کے شعبے میں خودکفالت کی جانب بھی قدم بڑھا سکیں گے۔