کوئٹہ:کوئٹہ چیمبر آف سمال انڈسٹری نے حکومت بلوچستان سے مؤدبانہ درخواست کی ہے کہ حساس حالات میں موبائل انٹرنیٹ پر مکمل بندش کے بجائے ایک متوازن اور قابلِ عمل طریقہ اپنایا جائے۔ چیمبر نے سیکیورٹی کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے زور دیا کہ انٹرنیٹ تک رسائی سے ہزاروں افراد کا روزگار جڑا ہوا ہے، اور اسے بند کرنا اُن کے لیے معاشی مشکلات پیدا کر دیتا ہے۔
چیمبر کے صدر میر مراد بلوچ نے کہا کہ ہر سال اگست کے مہینے میں بلوچستان کو سیکیورٹی خدشات کا سامنا رہتا ہے اور حکومت حفاظتی اقدامات کے طور پر انٹرنیٹ بند کرتی ہے۔ تاہم، مکمل بندش کے نتیجے میں فوڈ ڈیلیوری، ای کامرس، موبائل بینکنگ اور فری لانسنگ سے وابستہ یومیہ اجرت کمانے والے افراد بُری طرح متاثر ہوتے ہیں۔
“ہم حکومت کے حفاظتی اقدامات کو سراہتے ہیں، تاہم ہماری تجویز ہے کہ انٹرنیٹ کی مکمل بندش کے بجائے صرف اُن ایپلیکیشنز کو عارضی طور پر محدود کیا جائے جنہیں سیکیورٹی کے حوالے سے حساس سمجھا جائے، جبکہ بنیادی سروسز جیسے کہ ای کامرس، بینکنگ اور رابطے کے ذرائع کھلے رکھے جائیں۔” – میر مراد بلوچ
چیمبر نے حکومت بلوچستان سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) سے رابطہ کر کے ایسا حل نکالے جو سیکیورٹی اور عوامی روزگار دونوں کا تحفظ کرے۔
یہ اپیل چیف سیکریٹری، ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ہوم) اور آئی جی پولیس بلوچستان کو بھی ارسال کی گئی ہے تاکہ اس پر مناسب غور کیا جا سکے