|

وقتِ اشاعت :   August 7 – 2025

کوئٹہ: صوبائی وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان کڈنی اسپتال میں گردے کی پیوند کاری (کڈنی ٹرانسپلانٹ) کا عمل ایک سال تک معطل رہا، جس کے باعث مریضوں کو دوسرے صوبوں میں علاج کے لیے جانا پڑتا تھا، تاہم اب اس عمل کو دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔

ایک پریس بریفنگ میں وزیر صحت نے بتایا کہ “ہم نے ایک سال بعد کڈنی ٹرانسپلانٹ دوبارہ شروع کیا، اور اب تک 5 کامیاب ٹرانسپلانٹ کیے جا چکے ہیں، جب کہ 30 مریض رجسٹرڈ ہیں۔”

بخت محمد کاکڑ نے مزید بتایا کہ کڈنی ٹرانسپلانٹ کے ساتھ ساتھ کارنیا (آنکھوں) کے 150 آپریشن بھی بلوچستان میں کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں دل کے مریضوں کے مفت آپریشن جاری ہیں اور حکومت کی جانب سے دل کے مریضوں کو مفت اسٹنٹ فراہم کیے جا رہے ہیں، جو ایک بڑا ریلیف ہے۔

صوبائی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈل کے تحت مختلف طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ عوام کو معیاری علاج ان کی دہلیز پر دستیاب ہو۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں اور ماضی کی کمیوں کو دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔