|

وقتِ اشاعت :   August 10 – 2025

اسرائیلی فوج کے حملے جاری ہیں، تازہ کارروائی میں مزید 36 فلسطینی شہید ہوگئے۔
غزہ پر مکمل قبضے کے اسرائیلی کابینہ کے فیصلے کے بعد جمعے کو بھی دن بھر غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام جاری رہا۔
اسرائیل کی تازہ بمباری سے امداد کے منتظر 21 فلسطینیوں سمیت مزید 36فلسطینی شہید ہو گئے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ بھوک سے مزید 4 اموات ریکارڈ کی گئیں ہیں جس کے بعد اسرائیلی جنگ کے آغاز سے اب تک غذائی قلت سے ہونے والی مجموعی اموات کی تعداد 201 ہو گئی ہے جن میں 98 بچے بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے غزہ میں غیر ملکی امدادی ایجنسیوں کو کام کرنے سے روک رکھا ہے اور خوراک کی تقسیم صرف اسرائیلی اور امریکی انتظامیہ کے تحت کی جارہی ہے۔
غزہ میں خوراک کی تقسیم کے دوران اسرائیلی فوج اور امریکی کانٹریکٹرز کی جانب سے خوراک کے لیے کھڑے فلسطینیوں پر فائرنگ کرنے کے واقعات پیش آئے جن کی ویڈیوز بھی سامنے آچکی ہیں۔
7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی جنگ میں 61 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت دیگر فورم میں اسرائیل کے خلاف قراردادیں منظور ہوچکی ہیں مگر اس کے باوجود اسرائیل کی جانب سے غزہ میں نہتے فلسطینیوں پر حملے جاری ہیں ۔
اسرائیل خوراک کی قلت تک کو ہتھیار بناکر مظلوم فلسطینیوں کو شہید کررہا ہے جبکہ امریکہ اس انسانی مسئلے پر نہ صرف خاموش ہے بلکہ اسرائیل کی مکمل حمایت کررہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مختلف ممالک کے درمیان تنازعات ختم کرنے کا کریڈٹ لے رہے ہیں مگر فلسطین مسئلے پر خاموشی ان کے دوغلے پن کا مظہرہے ۔
امریکہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ فلسطین مسئلے کے حل سمیت اسرائیلی جارحیت کو روکنے کیلئے عملی کردار ادا کرے تاکہ غزہ میں نہتے فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ رک جائے۔
اسرائیل غزہ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے مگر اس سے جنگ کی شدت بڑھے گی جو مزیدانسانی جانوں کی زیاں کا سبب بنے گا لہذا اس دیرینہ مسئلے کا حل مذاکرات سے نکالا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن قائم ہوسکے۔