دہشتگردی کے خلاف سیل قائم کیا، ڈھائی ہزار سرکاری ملازمین کی تحقیقات ہوئیں: وزیراعلیٰ بلوچستان
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ایک اہم پریس کانفرنس میں انکشاف کیا ہے کہ صوبے میں دہشتگردی کے خلاف منظم اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی سیل قائم کیا گیا ہے، جس نے اب تک دو سے ڈھائی ہزار سرکاری ملازمین کی تحقیقات مکمل کی ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا: “ہم ان دو ہزار افراد کا ہر حال میں مقابلہ کریں گے جو ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ ریاست نے ابھی تک لڑائی شروع نہیں کی، لیکن اب دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا وقت آ گیا ہے۔”
سرفراز بگٹی نے کہا کہ کوئٹہ سے بی ایل کا سہولتکار پروفیسر گرفتار کر لیا گیا۔ بیانیہ چلایا جاتا ہے کہ بلوچستان کے لوگ محروم ہیں، گرفتار ہونے والا پروفیسر کہاں سے محروم ہے، بلوچ لوگوں سے درخواست ہے کہ ان سے دور رہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگرد تنظیمیں خواتین کو ورغلا کر اپنی صفوں میں شامل کر رہی ہیں، جو کہ ایک تشویشناک رجحان ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق، ڈاکٹر عثمان قاضی سے نئے انسداد دہشتگردی قوانین کے تحت تفتیش کی جائے گی۔
مزید برآں، سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاکستان کا آئین انہیں مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے کا حکم دیتا ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ دہشتگردی کے مسئلے پر قومی قیادت کا کردار ادا کرے۔
سرفراز بگٹی نے کہا: “ہم دہشتگرد نہیں، ریاست ہیں۔ سیکورٹی فورسز کیلئے امن و امان برقرار رکھنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں، اگر ریاست پوری طاقت سے ایکشن لے۔”
پریس کانفرنس کے دوران سیکیورٹی فورسز کے عزم، ریاستی اداروں کے تعاون، اور قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔