وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا خواتین کو بلیک میل کر کے خود کش حملے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، جو لوگ ریاست کےخلاف ہیں ان کے خلاف علیحدہ قوانین ہونے چاہئیں، دہشت گردوں سے کوئی رعایت نہیں ہو گی، ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے۔
ان کا کہنا تھا مسنگ پرسنز کے معاملے کو ریاست کے خلاف استعمال کرکے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، ہماری طرف سے کوئی جبری لاپتا نہیں ہے، ریاست کےخلاف لاپتا افراد کے مسئلہ کو منظم پروپیگنڈا ٹول کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف لڑائی لڑ رہی ہے، ہمیں دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں کو بھی منانا چاہیے، دہشت گردوں کے خلاف نئے قوانین کے تحت کارروائی ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ ملک کا سپریم ادارہ ملک کی پارلیمان ہے، جو جو قوانین بنائے گئے ہیں، اختیارات ملے ہیں وہ پارلیمان سے ملے ہیں، مجھے لگتا ہے میری پارلیمان بلوچستان کو لے کر کنفیوژ ہے، قانون کی عملداری صوبائی حکومت کی ذمے داری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کو ہم نے علیحدہ کر دیا ہے، جس نے ہم سے بات کرنی ہے،ہمارے دروازے کھلے ہیں، ہمیں مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا ہے، اگر کوئی مذاکرات نہیں کرنا چاہے تو کیا اسے مارنے کا لائسنس دے دیا جائے؟
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دہشت گردی کی حمایت میں کم ازکم نیشنل پارٹی تو نہیں بولےگی، نیشنل پارٹی کو شاید اس حقیقت کا علم نہیں تھا، میرے لیے بھی پریشان کن ہے کہ دو اسسٹنٹ کمشنرز اغوا ہوئے، کوشش کر رہے ہیں کہ دونوں اسسٹنٹ کمشنرز جلد سے جلد بازیاب ہو جائیں، فورسز مغوی سرکاری افسران کی بازیابی کےلئے کام کررہی ہے۔