کراچی کی سڑکوں سےگزشتہ روز ہونے والی بارش کے پانی کی نکاسی تاحال نہیں ہوسکی، شہریوں کے روز مرہ امور متاثر ہونےکا خدشہ ہے۔
کراچی میں بارش تھمے کئی گھنٹے بیت گئے، لیکن بیشتر سڑکوں سے اب تک پانی نہیں نکالا جاسکا۔
ایوان صدر روڈ، ضیاالدین احمد روڈ سمیت ریڈ زون میں گرومندر، نمائش، ایم اے جناح روڈ، سندھ اسمبلی، ڈرگ روڈ انڈر پاس، ملیر ہالٹ سے ماڈل کالونی جانے والی جناح ایونیو اور اردو بازارسمیت دیگرکئی مقامات پر اب بھی برسات کاپانی جمع ہے۔
ضیاالدین احمد روڈ، ایوان صدر روڈ، ایم آرکیانی روڈ سمیت ریڈزون میں کئی مقامات پر فٹ پاتھ کے برابر پانی تاحال موجود ہے، کورنگی کے ویٹا چورنگی پر جمع پانی کی نکاسی نہ ہوسکی، رات سے پھنسے ٹریلرز کو گزرنے میں دشواریاں پیش آرہی ہیں۔
کورنگی مل ایریا، شارع فیصل اور دیگر شاہراہوں پر شہری اپنی گاڑیاں چھوڑ کر چلے گئے تاہم شاہراہ فیصل اور لیاقت آباد سمیت دیگر سڑکوں سے پانی نکال دیاگیا۔
گزشتہ روز مرکزی شاہراہوں پر موجود پانی کی وجہ سے شدید ٹریفک جام بھی ہوا، جس کے باعث دفاتر اور کاموں پر جانے والے شہری رل کر رہ گئے۔
بارش کے بعد شہر کی خستہ حاسڑکیں بھی تباہ ہوگئیں، نیو ٹاؤن میں سڑکوں پر گڑھے پڑنے سے گاڑیاں دھنس گئیں، شہر کی بیشتر شاہراہوں پر گزشتہ روز بارش کے باعث بند ہونے والی گاڑی اور موٹرسائیکلیں تاحال موجود ہیں۔
دوسری جانب شہر کے کئی علاقوں میں شہری تاحال بجلی سے محروم ہیں، گلستان جوہر بلاک 7، 18،13،8، گلشن اقبال کے متعدد بلاکس، کورنگی، محمودآباد، اخترکالونی، منظورکالونی، ڈیفنس ویو، ملیر عالمگیرسوسائٹی سمیت شہر کے مخلتف علاقوں میں گزشتہ روز سے ہی بجلی معطل ہے۔
دریں اثنا، گزشتہ روز کراچی کے مختلف علاقوں میں پاک فوج اور سندھ رینجرز کے اہلکار شہریوں کی مدد کے لیے اہم شاہراہوں پر موجود رہے۔
پاک فوج اور سندھ رینجرز کے اہلکار رات گئے ٹریفک بحال کرنے میں مصروف رہے، اہلکاروں کی جانب سے خراب گاڑیوں کو کنارے پر کردیا گیا، مکینیکل ٹیم کے ساتھ خراب گاڑیوں کو ٹھیک کیا گیا۔